اوورسیز پختونوں کے ساتھ روا رکھا جانیوالا رویہ قابل مذمت اور قابل افسوس ہے، سردارحسین بابک

پشاور:اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ اوورسیز پختونوں کی فریاد نہیں سنی جارہی ہے۔ پچھلے دو مہینوں سے اوورسیز پختون وطن واپسی کیلئے سفارتخانوں میں اندراج کرچکے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اوورسیز پختون واپسی کیلئے بے تاب ہیں۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اوورسیز پختون فریاد کررہے ہیں لیکن اس ناروا سلوک پر وزارت خارجہ اور مرکزی حکومت کی خاموشی مجرمانہ فعل ہے۔ مہنگے ترین ائر ٹکٹس بھی اعلیٰ سفارش کے بغیر ممکن نہیں۔ سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، تمام خلیجی اور دیگر ممالک میں اوورسیز مریضوں کی واپسی کا پرواہ نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ غریب اوورسیز محنت کشوں کو پچھلے تین ماہ کی تنخواہیں نہیں ملی، انکے روزگار بند ہوچکے ہیں۔ کاروباری طبقہ پریشانی سے دوچار ہے لیکن حکومت کا اوورسیز پختونوں کے ساتھ روا رکھا جانیوالا رویہ انتہائی قابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔ کیا وزارت خارجہ کے علم میں نہیں کہ پختونوں کو لاہور، فیصل آباد، ملتان اور پنجاب کے دوسرے ہوائی اڈوں پر واپس لایا جارہا ہے۔ باچاخان انٹرنیشنل ائرپورٹ پشاور کیلئے فلائٹس بحال ہونے چاہیے۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ اوورسیز نوجوانوں نے جنون کو اسلئے سپورٹ نہیں کیا تھا کہ ان کے ساتھ ایسا برتائو کیا جائیگا۔ آج اوورسیز محنت کشوں کو حکومتی سطح پر لوٹا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کی فوری واپسی میں مزید تاخیر معاف نہیں کیا جائیگا۔ تبدیلی سرکار کی حکومت نے اوورسیز کو بہت تنگ کیا ہے، اوورسیز مریضوں کی واپسی کیلئے خصوصی انتظام ہونے چاہیے۔ مریضوں، بوڑھوں اور اوورسیز کے وہ رشتہ دار جو وزٹ ویزے پر باہر ممالک گئے ہیں لیکن کورونا وباء کی وجہ سے وہیں پھنس چکے ہیں۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل پر قرارداد پاس کرنی چاہیے تاکہ حکومت کی آنکھیں کھل جائیں جنہوں نے اوورسیز کے مسائل پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں بالخصوص پشتونوں کو سفارتخانے اور پی آئی اے حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیا حکومت بتاسکتی ہے کہ ان سے 500فیصد زیادہ کرایہ کیوں وصول کیا جارہا ہے؟ انکے کے لئے نارمل قیمتون پر فلائٹس کا انتظام کیوں مشکل ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں