وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے خلاف نیب تحقیقات کا آغاز

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کے خلاف مبینہ طور پر وفاقی دارالحکومت میں وزارت کی ایک عمارت اپنے کاروباری شراکت دار کو کرایے پر دینے کے معاملے پر سامنے آنے والی شکایت کی تصدیق کا عمل شروع کردیا۔
نجی اخبار کے مطابق یہ فیصلہ وزیر مذہبی امور کے خلاف انہی کی وزارت میں کسی کی شکایت پر نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں کیا گیا۔نیب ہیڈ کوارٹرز سے جاری بیان کے مطابق ’ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں وزارت مذہبی امور کے افسران یا عہدیداران کے خلاف شکایت کی تصدیق کی منظوری دی گئی‘۔ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب کا ماننا ہے کہ یہ ’مفادات کے تصادم‘ کا کیس ہے۔
اجلاس میں جکارتہ میں پاکستانی سفارتخانے کی عمارت ’غیر قانونی‘ طور پر فروخت کرنے پر وزارت خارجہ کے کچھ افسران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ساتھ ہی سابق صدر آصف علی زرداری کی پولیٹکل سیکریٹری رخسانہ بنگش اور سابق وزیر ہاؤسنگ اکرم درانی کے خلاف علیحدہ انکوائریز کی اجازت بھی دی گئی۔جکارتہ میں سفارتخانے کی عمارت کی فروخت کے بارے میں نیب کو یہ معلومات موصول ہوئی تھیں کہ وزارت خارجہ کو اس دھوکا دہی کے بارے میں معلوم تھا لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔اس کے ساتھ نیب، جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں بھی پاکستانی سفارتخانے کی عمارت فروخت کرنے کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
نیب حکام کے مطابق وزارت خارجہ نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے خلاف سفارتخانے کی عمارت فروخت کر کے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔نیب اجلاس میں وزارت بین الصوبائی تعاون کے سینیئر جوائنٹ سیکریٹری عارف ابراہیم کے خلاف تحقیقات کا بھی اختیار دیا گیا۔بیورو نے رخسانہ بنگش کے بیٹے عمر منظور، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے افسران یا عہدیداران، سابق سیکریٹری ورکس گلگت بلتستان سید اختر حسین رضوی اور سابق وزیر ہاؤسنگ اکرم درانی اور وزارت کے افسران اور عہدیداران کے خلاف 2 علیحدہ انکوائریز کی منظوری دی۔اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران اور عہدیداران کے خلاف جاری 2 انکوائریز کو قانون کے مطابق مزید تحقیقات کے لیے نیب راولپنڈی کو منتقل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے میڈیا، شہریوں اور تمام حکومتی اداروں کے عہدیداران پر زور دیا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی نشاندہی میں اپنا کردار ادا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو اس قسم کی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اشتہارات شائع کرنے سے قبل ان کی قانونی حیثیت اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا کہ اس سوسائٹی کے پاس زمین ہے اور اس کا لے آؤٹ پلان اور این او سی منظور ہوا ہے یا نہیں۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کیوں کہ کچھ سوسائٹیز صرف کاغذات پر تھیں اور وہ معصوم عوام سے ارپوں روپے بٹور کر فرار ہوگئیں۔انہوں نے تمام نیب افسران کو شکایات کی تصدیق، انکوائریز، تحقیقات اور احتساب عدالتوں میں کیس کی مکمل تیاری اور ٹھوس شواہد کے ساتھ پیروی کرنے کی ہدایت کی۔

Advertisements
Sponsored by Islamia School and College

اپنا تبصرہ بھیجیں