سندھ میں بی آئی ایس پی کے جعلی وصول کنندگان سے ایک کروڑ 85 لاکھ روپے وصول

دادو: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے مستفید ہونے والے سرکاری افسران کی 224 بیگمات میں سے 150 سے ایک کروڑ 85 لاکھ روپے ریکور کرلیے۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے اکثر خواتین وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مختلف محکمات میں تعینات 18، 19 اور اس سے زائد گریڈ کے افسران کی بیگمات ہیں جنہوں کئی سال سے بی آئی ایس پی سے لی گئی امداد واپس کردی۔ایف آئی اے کے انسپکٹر رمیش کمار نے کہا کہ ایف آئی اے نے دادو اور جامشورو اضلاع میں ایسی 92 خواتین کو نوٹسز جاری کیے تھے اور انہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حیدرآباد دفتر میں آج (بروز پیر) طلب کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 224 خواتین کا تعلق حیدرآباد کے علاقے سے ہے اور ایف آئی اے نے 150 خواتین سے ایک کروڑ 85 لاکھ روپے ریکو کرلیے جبکہ دیگر سے رقم واپس لینے کا عمل جاری ہے۔رمیشن کمار کا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غیر قانونی طور پر مستفید ہونے والے افراد کے خلاف 9 ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ایف آئی اے نے مٹیاری اور ٹنڈو اللہ یار میں غیر قانونی طور پر مستفید ہونے والے افراد سے بی آئی ایس پی کی رقم وصول کرکے دونوں اضلاع کو کلیئر قرار دے دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے اکثر خواتین، افسران کی بیگمات تھیں جنہوں نے سندھ اور وفاقی حکومتوں کے افسران ہونے کے باوجود امدادی رقم وصول کی۔ایف آئی اے انسپکٹر نے کہا کہ 78 خواتین کا تعلق داود اور 14 کا جامشورو کے اضلاع سے ہے، ان خواتین کو حیدرآباد میں ایف آئی اے دفتر میں پیش ہونے کے لیے نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جولائی 2008 میں متعارف کروایا گیا تھا جو پاکستان میں خواتین کے لیے سماجی تحظ کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے اور 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی تعداد 54 لاکھ تھی۔رواں برس جنوری میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا تھا کہ غریبوں کے لیے شروع کیے گئے اس پروگرام سے وظیفہ لینے والے گریڈ 17 اور اس سے زائد کے افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ انتہائی پسماندہ طبقے کی مدد کے اس سوشل پروگرام میں گریڈ 17 اور اس سے زائد کے 2 ہزار 5 سو 43 افسران نے اپنا اندراج کروا رکھا تھا جنہیں اب نکال دیا گیا ہے اور سماجی تحفظ کے نیٹ ورک نے ان افسران کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں