سپین کانی میں چار سالہ معصوم بچی وجیہہ کی قاتلہ آلہ قتل سمیت گرفتار

رزڑ: سپین کانی میں چار سالہ معصوم بچی وجیہہ کی قاتلہ کو آلہ قتل سمیت گرفتارکر لیا گیا. وجیہہ کی قاتلہ اس کی چاچی نکلی.ملزمہ اور مقتولہ کی ماں آپس میں دیورانی ہیں اور دونوں کے درمیان عرصہ داراز سے زبانی تکرار چلا آرہاتھا ملزمہ کے بقولہ مقتولہ کی ماںنے اُسے اُس کا بیٹا اذلان قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔
تفصیلات کے مطابق امین خان سکنہ سپین کانی نے اپنی 4 سالہ بچی وجیہہ کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ پرمولی میں درج کی تھی. ڈی پی او صوابی کے مطابق ملک بھر میں پہلے سے بھی بچوں پر مختلف قسم کے تشدد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے لہذا معاملے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مقامی پولیس اور علاقے کے باشندگان نے وجیہہ تلاشی ہنگامی بنیاد پر شروع کی۔تاہم اگلے روز ہی بچی اپنے ہی گھر سے تقریبا تین چار سو میٹر کے فاصلے پر واقع نالی میں مردہ حالت میں پائی گئی. واقعہ کی خبر ملنے پر ڈی آئی جی مردان شیر اکبر خان،ڈی پی او صوابی عمران شاہد جائے وقوعہ پہنچ گئے.
تھانہ پرمولی پولیس نے لاش کو ابتدائی میڈیکل رپوٹس کی خاطر کالوخان سرکاری ہسپتال منتقل کیا تاکہ وقوعہ کی اصل نوعیت کا پتہ لگایا جاسکے۔ چونکہ لاش پر جسمانی تشدد کے اثار نمایاں نہیں تھے جب ہسپتال میں ڈاکٹر صاحبہ سے اس بابت سوالات کئے گئے تو ڈاکٹر صاحبہ نے ہسپتال میں مطلوبہ ٹسٹس کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ ظاہر کی جس کے بعد لاش کے ایم سی پشاور کوایس پی انوسٹی گیشن صوابی بنارس خان کی موجودگی میں‌لے جایا گیاا۔ جہاں ڈاکٹرز نے بچی کی موت کی وجہ جسمانی تشدد قرار دے دیا۔ ابتدائی رپورٹس کیمطابق بچی کی موت سے متعلق جنسی تشدد کے کسی بھی قسم کے ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں بلکہ جسمانی تشدد کو بچی کی موت کی سبب بتائی جارہی ہے۔تاہم وقوع کی نوعیت کی تصدیق اور مزید چھان بین کی خاطر لاش سے ڈی این اے کے سیمپل بھی لئے گئے جنکی رپورٹ کے ایم سی پشاور میں مختلف تجزیاتی مراحل سے گزر کر تین چار یوم میں موصول ہوگی۔
تاہم ابتدائی جانچ پڑتال کرنے سے معلوم ہوا کہ معصوم بچی کی قتل اسکی چچی نے کی ہے۔شک کی بنیاد پر گل راج زوجہ مکمل خان سکنہ سپین کانی کو گرفتار کرلیا گیا جس نے ابتدائی تفتیش ہی میں راز اُگل دئیے، جبکہ ملزمہ نے عدالت میں باقاعدہ اعتراف جرم بھی کیا ہے ۔

کیٹاگری میں : رزڑ

اپنا تبصرہ بھیجیں