صوابی میں‌لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کی تیاری

صوابی (مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا کی وجہ سے پیش مشکلات سے نمٹنے کے لئے صوابی انتظامیہ نے جہاں‌بیشتر کاروبار کھولنے کی مشروط اجازت دے دی ہے وہاں‌پر آئندہ آنے والے دو ہفتوں‌میں‌لاک ڈاؤن میں‌مزید سختی دیکھنے میں آنے والی ہے. صوابی میں‌کورونا کی وجہ سے مرنے والوں‌کی تعداد فی الحال تین ہوگئی ہیں تاہم ذرائع کے مطابق ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں‌کورونا کے بڑھتے کیسز سامنے آنے کی وجہ سے صوبائی حکومت لاک ڈاؤن میں‌نرمی دکھانے کے فیصلے پر سختی سے نادم ہے. دوسری طرف ڈاکٹرز اور میڈیکل ٹیم نے بھی حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ لاک ڈاؤن میں‌نرمی کا فیصلہ واپس لیا جائے وگرنہ حالات بد سے بدتر ہو جائیں‌گے.
اس سلسلے میں‌جہاں‌بیشتر دکانوں‌کو صبح‌10 بجے سے لے کر شام 4 بجے تک محدود کر دیا گیا ہے وہاں‌باہر نکلنے والوں کے لئے ماسک اور دستانے پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے. اس سلسلے میں‌صوابی کے ڈپٹی کمشنر شاہد محمود نے نوٹی فیکیشن بھی جاری کر دیا ہے. تاہم صوبائی حکومت نے تندور اور ریڑھی فروش پر یہ پابندی نہیں‌لگائی، جبکہ اطلاعات کے مطابق دودھ اور دہی کی دکانیں‌بھی اس میں‌ سے نکالی جائیں گی. ترجمان ڈپٹی کمشنر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ماسک اور دستانوں کی پابندی پر شاید ایک ہفتے تک نرمی بھرتی جائے تاہم ایک ہفتے کے بعد بناء‌ماسک اور دستانے اگر کوئی بھی باہر دکھا تو سے پابند سلاسل کیاجائے گا.دوسری طرف ضلعی انتظامیہ کی بھر پور کوشش ہے کہ مقررہ وقت کے بعد کوئی بھی دکان کھلا نہ رہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں