مساجد پر پابندی سے انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے

صوابی (صوابی ٹائمز نیوز)مساجد پرپابندی سے انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے، پشتون قوم ہر قسم کی پابندی قبول کر سکتی ہے مگر مزہبی معاملات میں پابندی قبول نہیں کر سکتی. اس سلسلے میں صوابی ٹا ئمز فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے آیازعلی نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں کرونا کا کوئی مرض نہیں ہے مسجداللہ کا گھر ہوتا ہے اور اللہ کے گھروں پر پابندی یہودیوں کا ایجنڈا ہے اورمساجد میں نماز پر پابندی سے انتظامیہ سے تصادم پیدا ہونے کا حدشہ ہے.
جاوید اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے صوابی ٹائمز فورم میں بتایا کہ خانہ خدا پرایسی پابندیوں کی وجہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سے ناراض ہے. سید اشفاق علی باچا نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ مصیبت اور پریشانی کے وقت اللہ تعالٰی سے رجوع کیا جاتا ہے اور اللہ تعالٰی کے گھروں پر پابندی اسلام کے خلاف سازش ہے. فرہاد علی نے بتایا کہ مساجد پاکیزگی کی جگہ ہے جہاں پانچ وقت وضو کرکے طہارت حاصل کیا جاتا ہےاور ہم اپنے رب کے تابع ہیں اور اس سلسلے میں کوئی بھی مزاحمت ہوئی تو ہم شہید ہونے کو تیار ہیں.اظہارالحق نے صوابی ٹائمز فورمز میں اظہارخیال کرتے ہوئے بتایاکہ دنیا کی کسی بھی خطے میں پابندی لگے تو وہاں کے عوام یا علمائے کرام ذمہ دار ہیں مگر ہمارے علاقے میں ہم موت کو تیار ہیں مگر ہم مساجد میں نماز پڑھنے جائیں گے.
سردار سکندر حیات نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا وائرس ایک وبا ہے یاممکنہ طور پر ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے اور حکومت اور متعلقہ ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں‌کاروائی کریں. جیسا کہ چائنہ نے امریکہ کو موثر وائرس بیج کر امریکہ کو جواب دیا. اس طرح ہماری ایجنسیوں کی بھی ذمہ واری ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ تحقیقات کرکے موثر کاروائی کریں اور ان علاقوں میں مساجد میں نماز پر پابندی نہ لگائیں جہاں یہ مرض لاحق نہیں.

Advertisements
Sponsored by Rehman Medical Center

اپنا تبصرہ بھیجیں