نا اہل حکمرانوں نے ملک کو گروی رکھ دیا ہے، مشتاق احمد خان

مردان (صوابی ٹائمز نیوز) جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سینئٹر مشاق احمد خان نے کہا ہے۔کہ نااہل حکمرانوں نے ملک کو مسلمان دشمن بین القوامی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر پاکستان کے تمام اداروں میں اپنے آدمی بیٹھا کر ملک کی معیشیت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ ریاست پر انجمن غلامان امریکہ کا مکمل قبفہ ہے۔کشمیر فروش حکمران کشمریوں کی زخموں پر نمک پاشی سے گریز کریں۔مہنگائی نے غریبوں کی زندگی اجیرن بناکر خودکشیوں میں دن بدن اضافہ ہورہاہے۔ دینی مدارس کے 35 لاکھ طلباء و طالبات مغربی تہزیب کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی ہے۔ مکمل اسلامی نظام انسانیت کا مسقتبل ثابت ہوگا۔مشتاق احمد شیرگڑھ میں جمیت طلبہ عربیہ خیبر پختونخوا کے زیر اہتیمام ستوری دا خیبر کی چوتھی تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ جسکے مہمان خصوصی جمیت طلبہ عربیہ کے مرکزی امیر شمشیر علی شاہد تھے۔ تقریب سے صوبائی امین اعزاز علی شاہ،سابق صوبائی وزیر فضل ربانی ایڈوکیٹ، مولانا عبدالبر، سیف اللہ رضوان، انقلابی شاعر حسین احمد شاہد نے بھی خطاب کیا۔انھوں نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لے اسلامی مدارس سے دشمنی بہت مہنگی پڑے گی ۔ اور ساتھ مغربی عینک اپنے شیشے کا نمبر تبدیل کریں۔ اور کہ صدر پاکستان ہر سال مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں سول اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔لیکن ان میں دینی مدارس سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شامل نہیں ہوتے ۔اسی طرح سرکاری جامعات کو اربوں روپے فنڈز ملتے ہیں۔لیکن دینی مدارس کو ایک پیسہ نہیں دیا جاتا۔جو حکمرانوں کی تنگ نظری اور مغربی ایجنڈے کی تکمیل ہے۔اور کہا کہ اسلامی دنیا کے حکمران بھی مغرب کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں۔جنہوں نے ٹرمپ کے ہاتھوں بیت المقدس کا سودا کرکے اسرائیل کے ہاتھوں میں دیدیا ۔پاکستان کے اب ٹرمپ کے ہاتھوں کشمیر کا ثالثی کرنا چاہتے ہیں ۔اس سے ہندوستان کشمیر پر مستقل قابض رہے گا ۔جو ہمیں ہر گز قبول نہیں۔انھوں نے کہ آٹا مافیا نے بحران پیدا کرکے 40 ارب روپے کا منافع کمایا اسی طرح چینی گھی اور دیگر اشاء صرف کی گرانی سے حکمرانوں کے وارے نیارے ہوگئے ہیں۔ اور کہا کہ دینی مدارس کے طلباء ملک کو فرقہ واریت سے بچانے میں اھم کردار ادا کریں۔ اس سے قبل صوبے کے کئ دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے طلباء میں انعامات شیلڈ اور تخائف دیئے۔

Advertisements
Sponsored by Shayan Bakers

اپنا تبصرہ بھیجیں