سنہ 2012 سے اب تک ملک بھر میں96 پولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں

پشاور(صوابی ٹائمز نیوز) سنہ 2012 سے اب تک ملک بھر میں96 پولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں پولیو کارکنوں پر ہونے والے حملوں کے تدارک کے لیے پولیو ورکرز کو سیکورٹی دی گئی ہے۔ ملک بھر میں دو لاکھ ستر ہزار پولیو کارکنان گھر گھر پولیو مہم میں حصہ لیتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے ایک لاکھ پچاس ہزار پولیس اور سیکورٹی اہلکار ان کے ساتھ ہوتے ہیں بدھ 29 جنوری 2020 کے روز ضلع صوابی کے علاقہ فرمولی میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے دو لیڈی ہیلتھ ورکرز کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ 2012 کے بعد سے اب تک پولیو سے وابستہ واقعات میں صوبہ پحتونخوا میں مجموعی طور پر 47 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، یکم جنوری 2013 کو صوابی کے علاقے میں سات این جی او کارکن جن میں سے چھ خواتین تھیں ، کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ دوسرے واقعہ میں گاؤں کالا میں پولہومہم ختم کرنے کے بعد جب پولیو ٹیم قریبی گاؤں کی طرف جا رہی تھی تو کلاشنکوفوں سے لیس تین افراد نےگنے کے کھیتوں سےنکل کر ان پر فائرنگ کر دی جون 2013 ضلع صوابی میں اتوار کے روز دو پولیو ورکرز کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ گن مین نے دو مردانہ کارکنوں کو اس وقت ہلاک کردیا جب وہ صوابی کےایک گاؤں میں ویکسین فراہم کررہے تھے۔ دسمبر2013 کو صوابی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیو ٹیم کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے دو مزید پولیس اہلکار ہلاک کئےگئے

Advertisements
Sponsored by Modern Bakers

اپنا تبصرہ بھیجیں