سال 2019 میں کن کن سیاست دانوں کو گرفتار کیا گیا؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈسک ) پاکستان میں قومی احتساب بیورو (نیب) نامی ادارہ ملک میں بد عنوانی کے معاملات کی تفتیش کرتا ہے اور ان کے پاس بد عنوان عناصر کے خلاف احتساب کے لیے ایسا قانون موجود ہے جس کے ذریعے عدالت میں ملزمان کو پیش کرکے انہیں سزائیں بھی دلوائی جاتی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گزشتہ کچھ انتخابی مہمات کا واضح محور ملک پر حکومت کرنے والی سابق سیاسی جماعتوں اور مبینہ طور پر بدعنوان سیاست دانوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا اور ان سے مبینہ طور پر لوٹا ہوا قومی خزانہ واپس حاصل کرنا تھا۔
پی ٹی آئی کا یہ مطالبہ اس وقت تقویت اختیار کرگیا تھا جب پاناما پیپرز لیکس میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ اس وقت کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کا نام غیر ملکی جائیدادوں سے جوڑا جانے لگا۔

Advertisements
Sponsored by MBBS in Afghanistan

پاناما پیپرز لیکس میں کیے جانے والے انکشافات کے بعد ملک میں اپوزیشن جماعتوں اور خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے اس وقت کے وزیراعظم اور حکمران جماعت پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے بعد نہ صرف حکومت سے پاناما پیپرز لیکس میں سامنے آنے والے پاکستانی اشرافیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس وقت کے وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا رہا۔
حکومت کی جانب سے اس سارے معاملے کو مبینہ طور پر سنجیدگی سے نہ دیکھے جانے پر سب سے پہلے اپوزیشن جماعت ‘جماعت اسلامی’ کے امیر سراج الحق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، ان کے بعد عوامی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شیخ رشید احمد نے بھی اسے معاملے پر عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائر کی، بعد ازاں تحریک انصاف بھی اس معاملے میں فریق گئی۔
جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے متعدد سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور 21 جولائی 2017 کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا، جسے 28 جولائی 2017 کو سنایا گیا، اس فیصلے میں نواز شریف کو نا اہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور شریف خاندان کے دیگر افراد کے خلاف نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی گئی۔بعد ازاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف 3 ریفرنسز دائر ہوئے اور احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک ایک سال قید کی سزا سنادی۔بعد ازاں جولائی 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے اور ملک کا اقتدار حاصل کر لینے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اس بیانیے کہ بدعنوان سیاست دانوں اور دیگر اشرافیہ کا کڑا احتساب کیا جائے گا، میں مزید اضافہ ہوگیا اور ساتھ ہی قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے مزید رہنماؤں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے سلسلے کا آغاز ہوا، جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز، سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل اور دیگر شامل تھے۔

علاوہ ازیں نیب نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور رہنماؤں کے خلاف بھی متعدد بدعنوانی اور مالی امور میں بے ضابطگیوں یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے کیسز میں تحقیقات کا آغاز کیا، جن میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو، خورشید شاہ، آغا سراج درانی و دیگر شامل ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں اور خاص بطور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے قومی احتساب بیورو کی ان کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور سنگین نوعیت کے الزامات نہ صرف نیب بلکہ حکومت پر بھی لگائے گئے۔ان الزامات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی نیب کی جانب سے بد عنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ان کیسز کی تحقیقات کی گئیں یا جن افراد کے خلاف ان تحقیقات کا آغاز کیا گیا ان سب کا تعلق اپوزیشن کی جماعتوں سے تھا جبکہ تحریک انصاف کے کچھ افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی تاہم انہیں جلد ہی رہا کردیا گیا، جن میں ایک بڑا نام علیم خان کا تھا۔تاہم پی ٹی آئی کی حکومت کے ساتھ ساتھ نیب نے بھی اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا اور دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کا رد عمل اپنے بد عنوان رہنماؤں کی مالی بے ضابطگیوں کو آشکار ہونے سے روکنا اور سزا سے بچنے کی ناکام کوشش ہے۔

دوسری جانب سال 2019 کے اختتام پر متعدد ایسے افراد کی ضمانتیں منظور ہوگئیں، جن کے خلاف نیب نے ریفرنس قائم کیے تھے، جس سے اپوزیشن کے بیانیے کو تقویت ملی۔

تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد نیب کی جانب سے اہم سیاستدانوں کے خلاف شروع کیے جانے والے کیسز اور ان کی گرفتاریوں کا مختصر جائزہ

شریف خاندان کی گرفتاریاں
نواز شریف کی گرفتاری و ضمانت
پاکستان میں 3 مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے والے اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے متعدد ریفرنسز کا سامنا اور قید کی سزا کا سامنا کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف ان دنوں لندن میں علاج کی غرض سے موجود ہیں لیکن وہ علاج کے لیے لندن تک کیسے پہنچے اس کے پیچھے تقریبا ڈیڑھ سال کی ایک طویل عدالتی اور سیاسی جنگ موجود ہے۔سپریم کورٹ سے نااہل قرار دینے کے بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے نواز شریف کو تین سال قبل وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہتے ہوئے سیاسی محاذ پر اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب دنیا بھر میں بد عنوانی کا ایک بہت بڑا اسکینڈل سامنے آیا جسے لوگ پاناما پیپرز لیکس کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

پاناما پیپرز لیکس
پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب اپریل 2016 میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ‘آف شور’ مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیراعظم، شامی صدر اور پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

ان انکشافات کے بعد ملک کی اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا اور حکومت کی جانب سے اس معاملے میں غیرسنجیدہ رویے کے بعد آخر کار اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

پاناما کیس
سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد 20 اپریل 2017 کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد 10 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پانچ سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور 21 جولائی 2017 کو پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو 28 جولائی 2017 کو سنایا گیا۔

پاناما کیس کا فیصلہ
اپنے تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے اس وقت وزارت عظمیٰ کی کرسی پر موجود نواز شریف کو نا اہل قرار دیا، جس کے بعد وہ وزارت اعظمیٰ کے عہدے کے لیے بھی نا اہل ہوگئے تھے اور سبکدوش ہوگئے تھے۔25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ جج صاحبان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نواز شریف نے ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، نواز شریف عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ’ٹو ایف‘ اور آرٹیکل 62 کی شق ’ون ایف‘ کے تحت صادق نہیں رہے، نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرے، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نواز شریف وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔
سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف لندن کے 4 فلیٹس سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جبکہ نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل ملز، ہل میٹل سمیت بیرونی ممالک میں قائم دیگر 16 کمپنیوں سے متعلق بھی ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی۔عدالتی حکم کے مطابق نیب نے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس تیار کیا تھا جبکہ نواز شریف، اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس بھی دائر کیا گیا تھا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا
نیب کی جانب سے نوازشریف اور ان کے بچوں کے خلاف 8 ستمبر2017 کو عبوری ریفرنس دائر کیا گیا۔اس ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز، حسن اور حسین نواز کے علاوہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ملزم نامزد تھے، تاہم عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیا تھا۔20 اکتوبر 2017 کو نیب فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر فردِ جرم عائد کی تھی اور ان کے دو صاحبزادوں، حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزم قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ان تینوں ریفرنسز کی سماعت کررہے تھے اور انہوں نے ہی 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔احتساب عدالت کی جانب سے جب فیصلہ سنایا گیا تو نواز شریف اور مریم نواز لندن میں کینسر کے عارضے میں زیرعلاج کلثوم نواز کی عیادت کے لیے موجود تھے تاہم وہ 13 جولائی 2018 کو گرفتاری پیش کرنے کے لیے پاکستان پہنچے تھے۔بعد ازاں سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے لاہور ایئرپورٹ سے حراست میں لے کر اسلام آباد پہنچایا تھا جہاں سے دونوں کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔تاہم بعد ازاں شریف فیملی نے جج محمد بشیر پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد دیگر دو ریفرنسز العزیریہ اور فلیگ شپ کی سماعت جج ارشد ملک کو سونپ دی گئی تھی۔

11 ستمبر 2018 کو سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے بعد 68 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں، جس کے بعد ان کا جسد خاکی پاکستان لایا گیا اور جیل میں موجود نواز شریف کو اپنی اہلیہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پیرول پر رہا کردیا گیا۔
ایون فیلڈ ریفرنس کی بات کی جائے تو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں جنہیں 16 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔بعد ازاں اس درخواست پر سماعتوں کے بعد 19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ درخواست دہندگان کی اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

العزیزیہ ریفرنس میں سزا
بعد ازاں ایون فیلڈ ریفرنس کی سزا معطلی کے باوجود العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی طویل سماعت احتساب عدالت میں ہوئی تھی اور 19 دسمبر کو جج ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔نواز شریف پر العزیزیہ ریفرنس میں ڈیڑھ ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر (تقریباً ساڑھے 3 ارب پاکستانی روپے) یعنی لگ بھگ 5 ارب روپے سے زائد کا مجموعی جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔احتساب عدالت نے 131 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ نواز شریف ذرائع آمدن بتانے اور نیب کی جانب سے نیب آرڈیننس کے سیکشن 9 اے فائیو کے تحت لگائے گئے الزام کو غلط ثابت کرنے میں ناکام رہے جبکہ پروسیکیوشن نے ان کے خلاف کرپشن کا الزام ثابت کیا۔عدالت نے نواز شریف کو 10 سال کے لیے عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل بھی قرار دیا جبکہ حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور اس کے ساتھ ہی عدالت نے ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اثاثوں کی ضبطگی کے لیے سعودی عرب سے رابطہ کرے۔

سزائیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج
یکم جنوری 2019 کو نواز شریف کی جانب سے احتساب عدالت کی جانب سے سنایا گیا العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔نواز شریف کی درخواست کے بعد اگلے روز 2 جنوری کو نیب نے العزیزیہ اسٹیل مل اور فلیگ شپ ریفرنسز پر احتساب عدالت کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔عدالتی فیصلے کے بعد کوٹ لکھپت جیل منتقل کیے جانے والے نواز شریف کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا جارہا تھا جبکہ انہیں لاہور کے ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیے گئے تھے۔ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نے بھی مسلم لیگ (ن) کے قائد کی صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ نواز شریف کو ان کی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کی اجازت دی جائے۔ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر نواز شریف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور اپنے وکیل خواجہ حارث کے توسط سے درخواست دائر کی، جس پر عدالت عظمیٰ میں 19 مارچ کو ہونے والی سماعت پر نیب کو نوٹس جاری کیا گیا تھا جبکہ نواز شریف کے وکیل نے دلائل دیے تھے۔

6 ہفتے کیلئے سزا معطل
اس کیس کی مزید سماعت 26 مارچ کو ہوئی تھی، جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا کو 6 ہفتوں کے لیے معطل کرتے ہوئے ان کی درخواست ضمانت کو منظور کیا تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ 6 ہفتوں کی ضمانت کی مقررہ میعاد پوری ہونے پر نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہوگا، تاہم نواز شریف اس دوران اپنے وسائل سے اپنی مرضی کے معالج سے علاج کرواسکیں گے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں احتساب عدالت کی سزا پر سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی 6 ہفتوں کی ضمانت کے اختتام پر کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے۔

جج ویڈیو اسکینڈل
6 جولائی 2019 کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں، جس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔مریم نواز نے بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا تھا کہ ‘نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے، لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔تاہم ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا تھا اور ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا تھا۔اس تمام معاملے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے 2 مرتبہ جج ارشد ملک سے ملاقات کی تھی جبکہ اس تمام معاملے سے متعلق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کو بھی آگاہ کیا تھا۔بعد ازاں 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا اور خط لکھا تھا، جس پر وزارت قانون نے احتساب عدالت نمبر 2 کے ان جج کو مزید کام کرنے سے روک دیا تھا اور لا ڈویژن کو رپورٹ کرنے کا کہا تھا۔اسی روز جج ارشد ملک کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک خط اور بیان حلفی جمع کروایا گیا تھا، جس میں ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا تھا۔علاوہ ازین اسلام آباد ہائی کورٹ نے 22 اگست کو فیصلہ سناتے ہوئے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو تادیبی کارروائی کے لیے واپس لاہور ہائی کورٹ بھیجنے کے احکامات جاری کیے تھے۔جس کے بعد 23 اگست کو سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایف آئی اے پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی۔

چوہدری شوگر ملز کیس
10 اکتوبر کو نیب کی جانب سے چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور 11 اکتوبر کو انہیں جیل سے حراست میں لے کر لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔عدالت میں پیشی کے بعد نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جبکہ انہیں دوبارہ 25 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔تاہم 21 اکتوبر کو نیب کی حراست میں نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہوئی اور انہیں لاہور کے کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، مسلم لیگ (ن) کے قائد کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک کم ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی گئی تھیں۔22 اکتوبر کو سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صحت سے متعلق تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے خون ٹیسٹ کی رپورٹس تسلی بخش نہیں اور ساتھ ہی میڈیکل بورڈ کی جانب سے نواز شریف کے لیے بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور معدے کی ادویات تجویز کی گئیں۔

طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست
بعد ازاں سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے 24 اکتوبر کو ہی لاہور ہائی کورٹ میں ایک الگ درخواست دائر کی تھی، جس میں چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعا کی گئی تھی۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ شہباز شریف نے 24 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست دائر کی تھی اور استدعا کی تھی کہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک طبی بنیادوں پر نواز شریف کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔بعد ازاں 25 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے اس کیس میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک کروڑ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔دوسرے ہی روز 26 اکتوبر 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 29 اکتوبر تک کے لیے عبوری ضمانت منظور کر لی تھی۔مذکورہ درخواست پر طویل سماعت ہوئی تھی، جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا تھا، ساتھ ہی عدالت نے 20، 20 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔5 نومبر کو نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تھا، تاہم انہوں نے چوہدری شوگر ملز کیس میں اپنی بیٹی مریم نواز کی ضمانت منظور ہونے کے بعد روبکار جاری ہونے میں تاخیر کے باعث ہسپتال سے منتقل ہونے سے انکار کردیا تھا۔
بعد ازاں 6 نومبر کو مریم نواز کی رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد نواز شریف اپنی صاحبزادی کے ہمراہ سروسز ہسپتال سے جاتی امرا منتقل ہوگئے تھے۔جاتی امرا منتقل ہونے کے بعد یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ نواز شریف ڈاکٹروں کے مشورے اور اہل خانہ کی جانب سے قائل کرنے پر مبینہ طور پر اپنے علاج کے لیے بیرون ملک جانے پر رضامند ہوگئے۔

بیرون ملک روانگی
صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے 14 نومبر کو نوازشریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے شرائط رکھی جا رہی ہیں، عدالت وفاقی حکومت کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔بعد ازاں 16 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے سابق وزیراعظم کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔عدالت عالیہ سے اجازت ملنے کے بعد نواز شریف 19 نومبر کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن روانہ ہوگئے تھے اور ایئر ایمبولینس میں نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف، ڈاکٹر عدنان، عابد اللہ جان اور محمد عرفان شامل تھے۔

بیرون ملک قیام میں توسیع کا معاملہ
بعد ازاں نواز شریف کی جانب سے پنجاب کے سیکریٹری داخلہ کو مراسلہ لکھا گیا تھا کہ 4 ہفتوں کی اجازت کے خاتمے کے بعد وہ اپنے علاج (جو کسی مخصوص مدت تک محدود نہیں) کے لیے بیرون ملک قیام میں توسیع چاہتے ہیں۔جس پر 25 دسمبر 2019 کو پنجاب حکومت نے لندن میں زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک قیام میں توسیع سے متعلق درخواست پر فیصلہ کرنے کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

مریم نواز، محمد صفدر کی گرفتاری و ضمانت
نواز شریف کی طرح ان کے صاحبزادی مریم نواز اور ان کے خاوند کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف بھی نیب کی جانب سے 8 ستمبر 2017 کو عبوری ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز، حسن اور حسین نواز کے علاوہ کیپٹن (ر) محمد صفدر ملزم نامزد تھے، تاہم عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیا تھا۔9 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت نے 50 لاکھ روپے کے علیحدہ علیحدہ ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منظور کرلی تھی جبکہ عدالت نے حسن اور حسین نواز کا مقدمہ دیگر ملزمان سے الگ کرکے انہیں اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے تھے۔مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر 19 اکتوبر 2017 کو براہ راست فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ نواز شریف کی عدم موجودگی کی بنا پر ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی تاہم نواز شریف 26 ستمبر 2017 کو پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔3 نومبر 2017 کو پہلی مرتبہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اکٹھے عدالت میں پیش ہوئے اور 8 نومبر 2017 کو پیشی کے موقع پر نواز شریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

ایون فیلڈ میں سزا
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف 6 جولائی 2018 کو راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج بشیر نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کیے گئے ایون فیلڈ ریفرنس میں آمدنی سے زائد اثاثے بنانے پر مجرم ٹھہرایا اور بالترتیب 10 سال، 7 سال اور ایک سال کی سزا سنائی تھی۔احتساب عدالت کی جانب سے جب فیصلہ سنایا گیا تو نواز شریف اور مریم نواز لندن میں کینسر کے عارضے میں زیر علاج کلثوم نواز کی عیادت کے لیے موجود تھے، بعد ازاں 13 جولائی کو سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے لاہور ایئرپورٹ سے حراست میں لے کر اسلام آباد پہنچایا، جہاں سے دونوں کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر پہلے ہی گرفتاری دے چکے تھے۔بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 ستمبر 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ درخواست دہندگان کی اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی، نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے معطل کیے جانے کے بعد انہیں اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا، جس کے بعد وہ خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور پہنچے تھے۔

چوہدری شوگر ملز کیس
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں ملک میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔نیب کو اس کیس میں چوہدری شوگر ملز کی مرکزی شراکت دار کی حیثیت سے بڑی رقم کی سرمایہ کاری کے ذریعے منی لانڈرنگ میں مریم نواز کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز پر الزام ہے کہ وہ 93-1992 کے دوران کچھ غیر ملکیوں کی مدد سے منی لانڈرنگ میں ملوث رہیں اور اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے۔اس کیس میں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں، اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔جس پر 31 جولائی 2019 کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر مریم نواز پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔اس کیس میں یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے گئے تاہم سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں، اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔

کوٹ لکھپت جیل کے باہر سے گرفتاری
تاہم چوہدری شوگر مل کیس میں نیب نے 8 اگست کو مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپسی پر جیل کے باہر سے ہی گرفتار کرلیا تھا اور اسی روز ان کے کزن یوسف عباس کو بھی گرفتار کیا گیا تھا بعد ازاں 25 ستمبر 2019 کو احتساب عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے 30 ستمبر کو اسی کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم اکتوبر کے اواخر میں ان کے والد نواز شریف کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی جس کے باعث انہوں نے 24 اکتوبر کو بنیادی حقوق اور انسانی بنیادوں پر فوری رہائی کے لیے متفرق درخواست دائر کردی تھی۔عدالت عالیہ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت کو منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن انہیں اپنا پاسپورٹ اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا کہا گیا تھا، بعد ازاں نیب نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مریم نواز کو دی گئی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرلیا تھا۔
اسی اثنا میں مریم نواز نے اپنے پاسپورٹ کی واپسی اور بیرون ملک جانے کے لیے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔مریم نواز سے 7 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی کہ ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے، جس کے بعد 9 دسمبر کو جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو 7 روز میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی نظرثانی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی تھی۔تاہم اس کے بعد پھر 21 دسمبر کو مریم نواز نے اپنے بیرون ملک روانگی کے لیے ایک مرتبہ پھر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا، جس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے ایک مرتبہ پھر 6 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت طلب کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ’حکومت کو مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کی ہدایت دی جائے‘۔23 دسمبر کو لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر جو بھی فیصلہ کرے اس سے درخواست گزار (مریم نواز) کو آگاہ کیا جائے۔بعد ازاں 24 دسمبر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس کے بارے میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ کابینہ نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست متفقہ طور پر مسترد کردی ہے۔

کپیٹن (ر) محمد صفدر پر دیگر کیسز
پولیس نے 22 اگست کو مریم نواز کی احتساب عدالت میں پیشی کے دوران اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں کیپٹن (ر) محمد صفدر سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 14 اراکین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔24 اگست 2019 کو لاہور کی سیشن عدالت نے سابق وزیراعظم نوار شریف کے داماد کپیٹن (ر) محمد صفدر کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔قبل ازیں 12 اکتوبر 2019 کو لاہور کی سیشن عدالت نے پولیس سے ہاتھا پائی کیس میں کیپٹن (ر) محمد صفدر کی عبوری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔اسی دوران سیشن عدالت میں پیشی کے موقع پر کیپٹن (ر) محمد صفدر میڈیا نے گفتگو کی تھی اور مولانا فضل الرحمٰن کی آزادی مارچ اور احتجاج کے حوالے سے بات کی تھی۔بعد ازاں کیپٹن (ر) صفدر کو 21 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے پنجاب پولیس نے ایک مرتبہ پھر گرفتار کیا تھا۔تھانہ اسلام پورہ میں ان کے خلاف درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر کو عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ضلعی عدالت نے پولیس کی درخواست پر 22 اکتوبر کو کیپٹن (ر) صفدر کی 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ کی منظوری دی تھی۔26 اکتوبر کو لاہور کی مقامی عدالت نے حکومت کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔30 اکتوبر کو لاہور کی سیشن عدالت نے پاکستانی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور دھمکیاں دینے کے کیس میں کیپٹن (ر) صفدر کی درخواست ضمانت 2 لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔بعد ازاں 20 دسمبر 2019 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی ریاستی اداروں کے خلاف میڈیا سے مبینہ گفتگو پر ضمانت منسوخی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔پنجاب حکومت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے کیپٹن (ر) صفدر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 جنوری کو جواب طلب کیا تھا۔

شہباز شریف کی گرفتاری و ضمانت
واضح رہے کہ شہباز شریف، صاف پانی کیس اور 14 ارب روپے کے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں متعدد مرتبہ اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے۔آشیانہ اقبال اسکینڈل میں شہباز شریف سے قبل فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، اسرار سعید اور عارف بٹ کو نیب نے اسی کیس میں گرفتار کیا تھا جبکہ دو ملزمان اسرار سعید اور عارف بٹ ضمانت پر رہا تھے۔شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کاسا کمپنی کو جو پیراگون کی پروکسی کمپنی تھی مذکورہ ٹھیکہ دیا، شہباز شریف کے اس غیر قانونی اقدام سے سرکاری خزانے کو 19 کروڑ کا نقصان ہوا۔شہباز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر آشیانہ اقبال کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا لیکن ایل ڈی اے منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا اور اس سے 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔اس کے علاوہ شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر کنسٹنسی کا ٹھیکہ ایم ایس انجیئنر کنسٹنسی سروس کو 19 کروڑ 20 لاکھ میں دیا جبکہ نیسپاک نے اس کا تخمینہ 3 کروڑ لگایا تھا۔ان پر صاف پانی کمپنی کے کانٹریکٹس دینے میں پپرا (پی پی آر اے) رولز کی خلاف ورزی کا الزام بھی ہے۔نومبر 2017 میں نیب نے شہباز شریف انتظامیہ کی جانب سے قائم 56 پبلک سیکٹر کمپنیوں کے مبینہ کرپشن میں ملوث ہونے کے الزام کی مکمل تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں گرفتاری
شہباز شریف کو 5 اکتوبر 2018 کو نیب لاہور نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں حراست میں لے لیا تھا۔شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب کے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈیولپرز کو دیا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا جس کے لیے مزید تفتیش درکار ہے۔14 فروری 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔18 اپریل 2019 کو سپریم کورٹ نے نیب کی جانب سے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی سے متعلق دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کی تھی۔12 نومبر کو نیب نے رمضان شوگر ملز کیس میں قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔2 دسمبر کو نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کا کردار ثابت کرنے میں ناکامی پر سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں واپس لیں تھیں۔3 دسمبر 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ان کے صاحبزادوں حمزہ اور سلمان شہباز کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔24 دسمبر 2019 کو لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو 7 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

حمزہ شہباز کی گرفتاری

حمزہ شہباز کے خلاف نیب نے رمضان شوگر ملز، آمدن سے زائد اثاثہ جات اور صاف پانی کیس میں ریفرنس دائر کیے تھے، جس میں بتایا گیا تھا کہ رمضان شوگر ملز کے لیے حمزہ شہباز نے ایک نالہ تعمیر کروایا جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔واضح رہے کہ 5 اپریل 2019 کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی ٹیم نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا، تاہم وہ انہیں گرفتار نہیں کرسکی تھی۔
اس واقعے کے اگلے ہی روز 6 اپریل کو ایک مرتبہ پھر نیب کی ٹیم مذکورہ کیسز میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی اور گھر کا محاصرہ کرلیا تھا۔بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار شمیم نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نیب کو 8 اپریل تک حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔جس کے بعد 8 اپریل کو حمزہ شہباز لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے اور ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد انہیں 17 اپریل تک ضمانت دے دی گئی تھی، جس میں بعد میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔
حمزہ شہباز کی ضمانت 11 جون 2019 کو ختم ہوگئی تھی، جس میں توسیع کے لیے انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا تاہم عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ضمانت میں توسیع کا معاملہ احتساب عدالت دیکھے گی جس پر لیگی رہنما نے اپنی درخواست واپس لے لی اور انہیں منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمات میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔12 نومبر کو نیب نے رمضان شوگر ملز کیس میں قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔3 دسمبر 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ان کے صاحبزادوں حمزہ اور سلمان شہباز کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
10 دسمبر 2019 کو لاہور کی احتساب عدالت نے نیب کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز سے کیمپ جیل میں تفتیش کی اجازت دی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاریاں

رانا ثنا اللہ کی گرفتاری و ضمانت
انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے یکم جولائی 2019 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد-لاہور موٹروے سے گرفتار کیا تھا۔ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے گرفتاری کے حوالے سے بتایا تھا کہ رانا ثنااللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئیں، جس پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا گیا۔گرفتاری کے بعد رانا ثنا اللہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا، جس میں کئی بار توسیع بھی ہوئی، بعد ازاں عدالت نے اے این ایف کی درخواست پر رانا ثنا اللہ کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔علاوہ ازیں رانا ثنااللہ نے ضمانت پر رہائی کے لیے لاہور کی انسداد منشیات عدالت میں درخواست بھی دائر کی تاہم ان کی یہ درخواست مسترد ہوگئی تھی، جس کے بعد انہوں نے 20 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔21 دسمبر 2019 کو لاہور کی انسداد منشیات عدالت نے منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 4 جنوری تک توسیع کی تھی۔24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے منشیات برآمدگی کیس میں 10، 10 لاکھ روپے کے 2 مچلکوں کے عوض رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔یہ بھی یاد رہے کہ 9 اگست کو منشیات اسمگلنگ کیس میں سابق وزیر قانون پنجاب کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، اس موقع پر اُن کے داماد رانا شہریار بھی ان سے ملنے آئے تو فیصل آباد پولیس نے انہیں احاطہ عدالت سے حراست میں لے لیا تھا، پولیس کے مطابق رانا شہریار کے خلاف فیصل آباد میں مقدمہ درج ہے۔بعد ازاں 11 اگست کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے قتل کے الزام میں گرفتار رانا ثنا اللہ کے داماد رانا شہریار کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔26 دسمبر 2019 کو رانا ثنا اللہ کو جیل سے رہا کردیا گیا تھا، جنہیں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ریلی کی صورت میں جیل سے منتقل کیا۔

شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل کی گرفتاری

ایل این جی کیس
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسمٰعیل پر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت قوائد کے خلاف ایل این جی ٹرمینل کے لیے 15 سال کا ٹھیکہ دیا، یہ ٹھیکہ اس وقت دیا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے۔نیب کی جانب سے اس کیس کو 2016 میں بند کردیا گیا تھا لیکن بعد ازاں 2018 میں اسے دوبارہ کھولا گیا۔نیب انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کی انتظامیہ نے غیر شفاف طریقے سے ایم/ایس اینگرو کو کراچی پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل کا کامیاب بولی دہندہ قرار دیا تھا۔
اس کے ساتھ ایس ایس جی سی ایل نے اینگرو کی ایک ذیلی کمپنی کو روزانہ کی مقررہ قیمت پر ایل این جی کی ریگیسفائینگ کے 15 ٹھیکے تفویض کیے تھے۔علاوہ ازیں نیب نے احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چیئرمین سعید احمد خان سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مائع قدرتی گیس کیس میں گرفتار کیا تھا، اس کے علاوہ 7 اگست کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے پر مفتاح اسمٰعیل کو بھی عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔12 ستمبر 2019 کو نیب کراچی نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) میں غیرقانونی تعیناتی سے متعلق ایک اور ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی تھی۔
16 ستمبر 2019 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو اپنے تایا کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے مشروط اجازت دی تھی۔جس کے بعد نیب نے مسلم لیگ (ن) کے دونوں رہنماؤں کو متعدد مرتبہ احتساب عدالت میں پیش کیا اور ان کا ریمانڈ حاصل کیا گیا، بعد ازاں 26 ستمبر 2019 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا طبی معائنہ کرنے والے میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں شاہد خاقان عباسی کے معائنے کے بعد ان کے ہرنیا کے آپریشن کی سفارش کی تھی، شاہد خاقان عباسی کے گردے اور مثانے میں پتھری کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ ہسپتال منتقلی پر اب ان کے مزید ٹیسٹ بھی کیے گئے۔4 نومبر 2019 کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو اڈیالہ جیل سے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔نیب نے پہلی مرتبہ 3 دسمبر کو یہ ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کیا تھا، تاہم رجسٹرار نے ریفرنس پر اعتراضات لگائے تھے۔اسی روز قومی احتساب بیورو (نیب) نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق اور اوگرا کے سابق چیئرمین سعید احمد خان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔
10 دسمبر کو مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے رانا ثنااللہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی کا دباؤ ہے تو ہمیں بتا دیں۔12 دسمبر 2019 کو نیب کی جانب سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر کے خلاف مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے متعلق ریفرنس سماعت کے لیے منظور کیا گیا تھا۔17 دسمبر کو یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد ایل این جی ریفرنس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف گواہ بن گئے ہیں اور وہ احتساب عدالت میں گواہی دیں گے۔23 دسمبر کو مسلم لیگ (ن) کے دور کے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی درخواست ضمانت منظور ہوئی تھی اور انہیں 26 دسمبر 2019 کو رہا کر دیا گیا تھا۔

خواجہ سعد رفیق، ان کے بھائی کی گرفتاری
قومی احتساب بیورو (نیب) نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے میں خرد برد کی تحقیقات کا آغاز نومبر 2018 میں کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ مذکورہ سوسائٹی خواجہ سعد رفیق کی ہے جبکہ انہوں نے عدالت عظمیٰ میں سوسائٹی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔پیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کے مالک شاہد شفیق کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا ٹھیکہ لینے کے الزام میں 24 فروری کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔نیب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔نیب نے 11 دسمبر 2018 کو پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں خواجہ برادران، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائی کورٹ سے حراست میں لے لیا تھا، خواجہ برداران نے پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں قبل ازگرفتاری ضمانت میں متعدد مرتبہ توسیع بھی حاصل کی تھی۔گرفتاری کے دوسرے ہی روز نیب نے خواجہ برادران کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں عدالت نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو ابتدائی طور پر 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا، بعد ازاں اس میں متعدد مرتبہ توسیع کی گئی اور 2 فروری 2019 کو انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔نیب لاہور نے رواں سال مئی میں خواجہ برادران کے خلاف پیراگون سوسائٹی کے مبینہ کرپشن کیس میں تحقیقات کے بعد ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد 31 مئی کو لاہور کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا گیا تھا۔4 ستمبر 2019 کو لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی و رکن پنجاب اسمبلی خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر دائر ریفرنس میں فرد جرم عائد کردی تھی۔واضح رہے کہ 16 اکتوبر 2019 کو احتساب عدالت نے پیراگون سٹی اسکینڈل میں خواجہ برادران پر عائد فرد جرم ختم کر کے ان کی بریت کی درخواست مسترد کردی تھی۔27 اکتوبر 2019 کو پیراگون سٹی اسکینڈل میں زیر حراست پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو ساس کے انتقال پر 2 دن کے لیے پیرول پر رہائی ملی تھی، جس کے بعد وہ کوٹ لکھپت جیل سے لیہ روانہ ہوگئے تھے۔21 نومبر 2019 کو لاہور کی احتساب عدالت نے پیراگون سوسائٹی ریفرنس میں خواجہ برادرن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 29 نومبر تک توسیع کردی تھی۔خیال رہے کہ اس دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی درخواست پر متعدد مرتبہ رکن اسمبلی سعد رفیق کو ایوان میں پیش ہونے کے لیے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری کیے گئے۔

احسن اقبال کی گرفتاری

23 دسمبر 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو نارووال کے اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔واضح رہے کہ احسن اقبال کو اربوں روپے کے نارووال اسپورٹس سٹی پروجیکٹ سے متعلق کیس میں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے نیب نے طلب کیا تھا، نیب کے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ نیب راولپنڈی نے نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس اسکینڈل میں رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کو گرفتار کیا گیا۔احسن اقبال پر نارووال اسپورٹ سٹی منصوبے کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے فنڈز استعمال کرنے کا الزام ہے۔24 دسمبر 2019 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں کے معاملے میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو 6 جنوری تک 13 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

کامران مائیکل کی گرفتاری و ضمانت

کامران مائیکل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن اسمبلی ہیں اور 2013 سے 2016 کے دوران وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ تھے اور اس کے علاوہ دیگر وزارتوں کے قلم دان بھی ان کو دیے گئے تھے۔نیب نے کراچی کی احتساب عدالت میں 16 پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا ریفرنس دائر کر رکھا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران کامران مائیکل کی جانب سے رشوت لینے کا انکشاف ہوا تھا۔نیب کے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ‘سابق وفاقی وزیر نے 2013 میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پلاٹس کی الاٹمنٹ کے لیے عہدیداروں پر دباؤ ڈالا’ اور پلاٹس کی مالیت کے حوالے سے ادارے کا کہنا تھا کہ کے پی ٹی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں تین قیمتی پلاٹس کی مالیت ایک ارب 5 کروڑ روپے ہے۔8 فروری 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ کامران مائیکل کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔دوسرے ہی روز لاہور کی احتساب عدالت نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل کا 5 روزہ راہداری ریمانڈ منظور کیا تھا۔19 مارچ 2019 کو کابینہ کمیٹی نے سابق وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ کامران مائیکل پر سفری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔8 نومبر 2019 کو سندھ ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے کامران مائیکل کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

پیپلز پارٹی قیادت کی گرفتاریاں

آصف علی زرداری، فریال تالپور کی گرفتاری
جعلی اکاؤنٹ کیس
2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35 ارب روپے بتائی گئی تھی۔اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ سال ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔
بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔بعدازاں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔اس سلسلے میں 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی اور ساتھ ہی آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

گرفتاری اور ضمانت
10 جون 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر پاکستان، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی، جس کے بعد نیب کی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا تھا، جس کے بعد ابتدائی طور پر ان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا۔14 جون 2019 کو ترجمان نیب نے بتایا تھا کہ بیورو نے آج ہی فریال تالپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جس کے بعد انہیں جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ان کی گرفتاری کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ فریال تالپور کو ایف ایٹ سیکٹر میں قائم زرداری ہاؤس میں ہی نظر بند رکھا جائے گا جبکہ اسے ذیلی جیل بھی قرار دیا گیا تھا۔بعدازاں فریال تالپور کو صحت ناساز ہونے پر علاج کے لیے اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اور ساتھ ہی ان کے وارڈ کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔گرفتاری سے قبل ہسپتال انتظامیہ نے ان کی طبیعت کو غیرتسلی بخش قرار دیا تھا اور ڈاکٹروں نے مشورہ دیا تھا کہ دل کے عارضے میں مبتلا فریال تالپور کو مزید دیکھ بھال کی ضرورت ہے البتہ نیب اہل کاروں نے ڈاکٹروں کے مشورے کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔12 اگست 2019 کو نیب نے فریال تالپور کو شب پولی کلینک ہسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کیا تھا جس پر انہوں نے شدید احتجاج کیا۔بعد ازاں آصف زرداری کا عدالتی ریمانڈ دے دیا گیا تھا اور انہیں جیل منتقل کردیا گیا تھا، جہاں ان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں علاج کے لیے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔دسمبر 2019 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق صدر کی جانب سے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے توسط سے عدالت میں جعلی اکاؤنٹس اور پارک لین کیسز میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی۔3 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ضمانت کو سماعت کے لیے مقرر کردیا تھا۔11 دسمبر 2019 کو عدالت عالیہ نے پی پی پی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کی تھی، جس کے دوسرے ہی روز احتساب عدالت سے ان کی رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد سابق صدر کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) سے رہا کردیا تھا۔17 دسمبر 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس کے ذریعے میگا منی لانڈرنگ کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی اور سابق صدر آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کی ضمانت منظور کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری کو نیب کا نوٹس

نیب راولپنڈی نے بلاول بھٹو زرداری کو 24 دسمبر 2019 کو جے وی اوپل کیس میں طلب کیا تھا۔20 دسمبر کو بلاول کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے نیب کے نوٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو نیب کا نوٹس موصول ہوگیا ہے۔تاہم 23 دسمبر کو بلاول بھٹو زرداری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب نے انہیں 24 دسمبر کو طلبی کا نوٹس بھیجا ہے لیکن وہ پیش نہیں ہوں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہنا تھا کہ ‘نیب نے طلبی کا غیر قانونی نوٹس بھیجا ہے، 24 دسمبر کو کس بنیاد پر نیب نے طلب کیا ہے؟ سابق چیف جسٹس بھی کہہ چکے ہیں کہ بلاول بےگناہ ہے تو کیوں بلایا جارہا ہے، حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کا لیول یہ ہے کہ ایک بیٹے کو ماں کی برسی منانے نہیں دے رہی’۔

پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاریاں

خورشید شاہ کی گرفتاری
18 ستمبر 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے قومی اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا تھا۔واضح رہے کہ احتساب کے قومی ادارے نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ، ان کی 2 بیویوں، صاحبزادوں فرخ اور زیرک شاہ، ان کے داماد سمیت 18 افراد کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کیا تھا۔جس کے بعد ان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا جبکہ بعدازاں اسے عدالتی ریمانڈ میں تبدیل کردیا گیا لیکن دوران حراست طبیعت خرابی کے باعث خورشید شاہ کو ہسپتال بھی منتقل کیا گیا تھا۔17 دسمبر کو سکھر کی احتساب عدالت نے رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت منظور کی تھی۔تاہم 18 دسمبر کو نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔20 دسمبر کو سکھر کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما خورشید شاہ سمیت دیگر 18 افراد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کو سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔جس کے بعد 23 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ کے سکھر بینچ نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی رہائی کا حکم 16 جنوری تک کے لیے معطل کردیا تھا۔24 دسمبر 2019 کو سکھر کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ سمیت دیگر 18 ملزمان کے خلاف دائر آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں الزامات کا ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔بعد ازاں احتساب عدالت نے نیب کو آئندہ سماعت پر ملزمان پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریفرنس کی سماعت 7 جنوری تک ملتوی کردیا تھا۔

آغا سراج درانی کی گرفتاری
جولائی 2018 میں نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف کرپشن کے مختلف الزامات پر انکوائری کی منظوری دی تھی۔بعد ازاں نیب پراسیکیوٹر زاہد حسین بلادی نے آغا سراج درانی کے مبینہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کروائی تھیں، نیب کی جانب سے تیار کردہ فہرست کے مطابق آغا سراج درانی 17 منقولہ اور غیر منقولہ بے نامی جائیدادوں کے مالک ہیں جس میں ان کے آبائی علاقے گڑھی یاسین میں قائم بم پروف بنگلہ بھی شامل ہے۔قومی احتساب بیورو (نیب) نے دعویٰ کیا تھا کہ آغا سراج درانی نے ذرائع آمدن کے علاوہ ایک ارب 60 کروڑ روپے کے اثاثے جمع کیے تھے جو ان کے بتائے گئے اثاثہ جات سے زیادہ ہیں۔
20 فروری 2019 کو اسلام آباد میں گرفتار ہونے کے بعد سے آغا سراج درانی کے خلاف 3 سو 52 غیر قانونی تقرریوں، صوبائی وزرا کے ہاسٹل اور سندھ اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر میں پبلک فنڈز کے استعمال اور ان منصوبوں کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی سے متعلق تحقیقات جاری تھیں۔آغا سراج درانی کی اسلام آباد سے گرفتاری کے حوالے سے ذرائع نے بتایا تھا کہ نیب کو کراچی سے ان کی گرفتاری میں کافی مسائل تھے، رپورٹ کے مطابق آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ وہ اپنے خلاف کیسز اور اہم دستاویزات پر اثر انداز ہوسکتے تھے۔12 اکتوبر 2019 کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی اہلیہ اور بچوں سمیت 13 مفرور ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔13 دسمبر 2019 کو سندھ ہائیکورٹ نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

سید مراد علی شاہ پر کیسز
22 مارچ 2019 کو نیب نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں 26 مارچ کو طلب کیا تھا تاہم وہ ایک روز قبل ہی 25 مارچ کو اس حوالے سے تفتیش میں شریک ہونے کے لیے نیب کے دفتر میں پیش ہوئے تھے جہاں ان سے ٹھٹہ شوگر مل اور دادو شوگر مل کی نیلامی سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔نیب ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں طلبی پر نیب راولپنڈی کے دفتر میں پہلی مرتبہ پیش ہوئے تھے، جہاں نیب کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) نے وزیراعلیٰ سندھ کو 50 سوالات پر مشتمل سوالنامہ تھمادیا تھا جس میں ٹھٹہ شوگر مل اور دادو شوگر مل کی فروخت سے متعلق سوالات بھی موجود تھے۔11 اگست 2019 کو یہ رپورٹس سامنے آئیں تھی کہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت (آصف علی زرداری اور فریال تالپور) کے جیل منتقل ہونے اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر پارٹی نے سندھ کی صوبائی حکومت کو بچانے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔بعد ازاں 17 ستمبر 2019 کو نیب نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو مشکوک ذرائع اور عہدیداروں کے ذریعے مبینہ طور پر شوگر ملز کو سبسڈیز دینے پر تفتیش کے لیے طلب کیا تھا۔

شرجیل انعام میمن کی گرفتاری و ضمانت
شرجیل انعام میمن نے 2015 میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی تھی اور تقریباً 2 سال تک بیرون ملک رہنے کے بعد جب وہ رواں برس 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے، تو انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کے اہلکاروں نے ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرلیا تھا۔تاہم 2 گھنٹے پوچھ گچھ کرنے اور ضمانتی کاغذات دیکھنے کے بعد نیب راولپنڈی کے اہلکاروں نے شرجیل میمن کو رہا کردیا تھا۔انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت کی درخواست کی تھی جسے 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کرلیا گیا تھا۔سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، اس وقت کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور دیگر پر 15-2013 کے دوران سرکاری رقم میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی خرد برد کا الزام ہے۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مذکورہ رقم صوبائی حکومت کی جانب سے آگاہی مہم کے لیے الیکٹرونک میڈیا کو دیے جانے والے اشتہارات کی مد میں کی جانے والی کرپشن کے دوران خرد برد کی۔23 اکتوبر 2017 کو سندھ کے محکمہ اطلاعات میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ نے سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن سمیت ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی، جس کے بعد نیب کی ٹیم نے سابق صوبائی وزیر کو عدالت سے باہر آتے ہی گرفتار کرلیا تھا۔
سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سمیت دیگر ملزمان کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں سپریم کورٹ میں بھی دائر کی گئیں تھیں جنہیں 2 جنوری 2018 کو عدالتِ عظمیٰ نے مسترد کردیا تھا۔15 فروری 2018 کو احتساب عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سمیت 12 ملزمان پر سندھ کے محکمہ اطلاعات میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی بد عنوانی کے خلاف دائر ریفرنس میں فردِ جرم عائد کی تھی۔یکم ستمبر 2018 کو اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے نجی ہسپتال کے دورے کے دوران سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے زیر علاج رہنما شرجیل انعام میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے کے بعد پولیس نے ہسپتال کے کمرے کو سیل کرتے ہوئے شرجیل میمن کو جیل منتقل کردیا تھا۔

چیف جسٹس کے دورے اور شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شرجیل میمن کے ڈرائیور محمد جان سمیت 2 افراد کو گرفتار بھی کیا تھا، بعد ازاں بوٹ بیسن پولیس نے شرجیل میمن اور ان کے تین ملازمین کے خلاف معاملے کا مقدمہ درج کرلیا تھا۔22 جون 2019 کو احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو اثاثوں سے متعلق نئے کیس میں گرفتار شرجیل انعام میمن سے جیل میں تحقیقات کی اجازت دی تھی۔بعد ازاں مختلف سماعتوں کے بعد 25 جون 2019 کو سندھ کے محکمہ اطلاعات میں تقریباً 5 ارب 75 کروڑ روپے کی کرپشن سے متعلق ریفرنس میں شرجیل انعام میمن کی درخواست ضمانت منظور ہونے کے بعد انہیں کراچی کے سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

مالی بے ضابطگیوں کا کیس
روشن سندھ پروگرام سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کے کیس میں نیب کی جانب سے شرجیل انعام میمن پر الزام لگایا گیا کہ روشن سندھ پروگرام کے تحت سولر لائٹ کی تنصیب کے ٹھیکے میں بے ضابطگیاں کی گئیں۔واضح رہے کہ اس کیس میں سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے عبوری ضمانت حاصل کررکھی ہے جبکہ 4 ملزمان اور 2 کمپنیاں 29 کروڑ روپے کی پلی بارگین کرچکے ہیں۔23 دسمبر 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کو روشن سندھ پروگرام میں مالی بے ضابطگیوں سے متعلق کیس میں یکم جنوری تک عبوری ضمانت دی تھی۔

قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری
22 دسمبر 2019 کو نیب کی جانب سے کراچی میں ملیر ندی کی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کرنے پر کال اپ نوٹس موصول ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔علاوہ ازیں سابق وزیراعلیٰ سندھ کا نام جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں بھی سامنے آیا تھا۔وہ ان 172 افراد میں سے ایک ہیں جن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی تجویز دی گئی تھی۔
25 مارچ 2019 کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی۔26 مارچ 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی جعلی اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کی تھیں۔20 اگست 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں صوبہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی تھی۔

ارباب عالمگیر اور ان کی اہلیہ کے خلاف ریفرنس
10 جنوری 2019 کو احتساب عدالت نے بدعنوانی کے مقدمے میں سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما ارباب عالمگیر اور ان کی اہلیہ عاصمہ عالمگیر پر فردِ جرم عائد کی تھی۔واضح رہے کہ 3 جنوری کو نیب نے ارباب عالمگیر اور ان کی اہلیہ عاصمہ عالمگیر کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا جس کے مطابق دونوں نے 2008 سے 2013 کے دوران آمدن سے زائد اثاثے بنائے اور اسلام آباد میں جائیدادیں خریدیں۔ریفرنس میں نیب کی جانب سے عاصمہ عالمگیر اور ارباب عالمگیر پر 33 کروڑ 21 لاکھ 91 ہزار 528 روپے کی کرپشن کے الزامات لگائے گئے تھے۔

روبینہ خالد کے خلاف ریفرنس
نومبر 2018 میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی صدارت میں نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں مختلف لوگوں کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی گئی تھی، جس میں سینیٹر روبینہ خالد اور کوسموس پروڈکشن کی انتظامیہ بھی شامل تھی۔یکم جولائی 2019 کو نیب راولپنڈی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر اور کوسموس پروڈکشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی سابق چیف ایگزیکٹو روبینہ خالد و دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔یہ ریفرنس تفتیشی افسر افشاں بشارت کی جانب سے احتساب عدالت اسلام آباد کے جج کے پاس دائر کیا گیا تھا، اس حوالے سے نیب اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ بیورو کے دائر کردہ ریفرنس میں سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ اسلام آباد مظہر الاسلام، لوک ورثہ کے خود تیار کردہ فنڈ (ایس جی ایف) میں کوسموس پروڈکشن کی چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر تابندہ ظفر کے نام بھی شامل ہیں۔
احتساب کے ادارے کے مطابق تفتیش کے دوران حاصل ثبوت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملزمان قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی سیکشن 9(اے)، (vi) اور(xii) کے تحت کرپشن کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ مظہر الاسلام نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور ملزمہ روبینہ خالد اور ڈاکٹر تابندہ ظفر کے ساتھ مل کر غیر قانونی طریقے سے کوسموس پروڈکشن کے ٹھیکے کو بڑھایا۔نیب کے مطابق نئے ٹینڈرز کے بغیر معاہدے میں توسیع سے ملزمان نے غیر قانونی فائدہ اٹھایا اور ان کی طرف سے 50 فیصد جرمانہ بھی جمع نہ کروائے جاسکے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 3 کروڑ ایک لاکھ 30 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریاں

عبدالعلیم خان کی گرفتاری و ضمانت
6 فروری 2019 کو آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنی سے متعلق تحقیقات میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے طلب کرنے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان، نیب لاہور کے آفس میں پیش ہوئے تھے، جہاں انہیں تفتیش کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ نیب آفس میں پیشی کے موقع پر ان سے مختلف سوالات کیے گئے تھے جبکہ 2 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی تحقیقات میں وہ نیب حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے تھے۔
خیال رہے کہ آمدن سے زائد اثاثے، پاناما پیپرز میں آف شور کمپنی کے ظاہر ہونے اور ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق عبدالعلیم خان کے خلاف نیب تحقیقات کررہا تھا اور وہ اس سے قبل بھی 3 مرتبہ نیب کے سامنے پیش ہوچکے تھے۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں ملزم عبدالعلیم خان کی گرفتاری کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کو آپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے بطور سیکریٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اسی کی بدولت پاکستان اور بیرون ملک مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنائے۔تفصیلات بتاتے ہوئے نیب کا کہنا تھا کہ ملزم عبدالعلیم خان نے ریئل اسٹیٹ کاروبار کا آغاز کرتے ہوئے اس میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی جبکہ ملزم نے لاہور اور مضافات میں اپنی کمپنی میسرز اے اینڈ اے پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام مبینہ طور پر 900 کینال زمین خریدی جبکہ 600 کینال کی مزید زمین کی خریداری کے لیے بیعانہ بھی ادا کیا گیا تاہم علیم خان اس زمین کی خریداری کے لیے موجود وسائل کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔نیب لاہور کے مطابق ملزم علیم خان نے مبینہ طور پر ملک میں موجود اپنے اثاثوں کے علاوہ 2005 اور 2006 کے دوران متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں بھی قائم کیں جبکہ ملزم کے نام موجود اثاثوں سے کہی زیادہ اثاثے خریدے گئے جس کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر ریکارڈ میں ردوبدل کے پیش نظر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ان کی گرفتاری کے دوسرے ہی روز پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور نے کہا تھا کہ نیب کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علیم خان کو حراست میں لینے پر ان کی جانب سے ازخود استعفیٰ پیش کرنا مثال ہے۔

7 فروری کو ہی احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے زیر حراست سینئر رہنما عبدالعلیم خان کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر 15 فروری تک ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔اس کے بعد علیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں متعدد مرتبہ توسیع کی گئی، بعد ازاں 15 مئی 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق صوبائی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10، 10 لاکھ روپے کے 2 مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔علاوہ ازیں 29 نومبر 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما علیم خان اور کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے 2 سابق چیئرمینز کے خلاف پارک ویو سٹی ہاؤسنگ سٹی میں مبینہ تجاوزات سے متعلق کیس قومی احتساب بیورو کو ارسال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

پی ٹی وی حملہ کیس
2014 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے دھرنے کے دوران مشتعل افراد نے یکم ستمبر کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کردیا تھا، جس کی وجہ سے پی ٹی وی نیوز اور پی ٹی وی ورلڈ کی نشریات کچھ دیر کے لیے معطل ہوگئی تھیں۔استغاثہ کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 26 دیگر زخمی ہوگئے تھے جبکہ اس اشتعال انگیزی کے دوران 60 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، استغاثہ نے اپنا موقف ثابت کرنے کے لیے 65 تصاویر، ڈنڈے، کٹرز وغیرہ پیش کیے تھے۔حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں تقریباً 70 افراد کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے الزام کے تحت انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس نے پی ٹی آئی کے چیئرمین اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان، صدر عارف علوی، وزیر دفاع پرویز خٹک، سابق وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر تعلیم شفقت محمود، راجا خرم نواز، جہانگیر خان ترین، علیم خان اور دیگر پر 2014 کے دھرنے کے دوران اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔17 ستمبر 2019 کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما عبدالعلیم خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے انہیں 2014 کے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ ہاؤس حملہ کیس کے سلسلے میں 30 ستمبر سے قبل ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

سبطین خان کی گرفتاری و ضمانت
14 جون 2019 کو نیب لاہور نے وزیر جنگلات پنجاب اور پی ٹی آئی کے رہنما سبطین خان کو بد عنوانی کے الزام کی انکوائری کے دوران گرفتار کیا تھا۔اس حوالے سے نیب لاہور کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ زیر حراست سابق صوبائی وزیر برائے کان کنی و معدنیات ملزم محمد سبطین خان پر چنیوٹ اور راجوہ میں اربوں روپے مالیت کے 500 میٹرک ٹن خام فولاد کا غیر قانونی ٹھیکہ من پسند کمپنی کو دینے کا الزام ہے۔نیب لاہور نے کہا کہ ملزم کی جانب سے جولائی 2007 میں ‘میسرز ارتھ ریسورس پرائیویٹ لمیٹڈ’ نامی کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کرنے کے غیر قانونی احکامات جاری کیے گئے اور ملزم کی دیگر شریک ملزمان سے ملی بھگت سے کمپنی کو ٹھیکہ مروجہ قوانین سے انحراف کرتے ہوئے فراہم کیا گیا’۔
نیب کے مطابق میسرز ارتھ ریسورس پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی ماضی میں کان کنی کے تجربہ کی حامل نہ تھی پھر بھی ملزم نے ملی بھگت سے اسے کنٹریکٹ فراہم کیا۔پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر کی گرفتاری کے دوسرے ہی روز انہیں لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے نیب کی جانب سے سبطین خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں 10 روز کے لیے نیب کے حوالے کردیا تھا، اس کے بعد 25 جون کو عدالت نے ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کردی تھی۔بعد ازاں انہیں جیل بھیج دیا گیا جبکہ 18 ستمبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

پرویز خٹک کے خلاف ریفرنس
بی آر ٹی منصوبہ
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت اور بی آر ٹی پر کام کرنے والے ادارے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اکتوبر 2017 میں اس کے آغاز کے بعد 6 ماہ یعنی 20 اپریل 2018 تک اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔تاہم ایسا نہ ہوسکا جس کے بعد منصوبے کے منتظمین بدل بدل کر اس کی تکمیل کی مختلف تاریخیں دیتے رہے۔جسٹس وقار احمد سیٹھ کی زیر سربراہی بینچ نے 17 جولائی 2018 کو نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ پشاور ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کے معاملات کی مکمل تفتیش اور تحقیقات کرے تاہم صوبائی حکومت اور پی ڈی اے نے سپریم کورٹ میں سول پٹیشن دائر کرتے ہوئے اس عدالتی حکم کو معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی زیر سربراہی بینچ نے 4 ستمبر 2018 کو ہائی کورٹ کے حکمنامے کو معطل کردیا تھا اور نیب کی تحقیقات مکمل نہیں ہو سکی تھیں۔12 اپریل 2019 کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے قومی احتساب بیورو (نیب) پر زور دیا تھا کہ وہ پشاور میں شروع کیے گئے اربوں روپے کے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے خلاف ریفرنس دائر کرے۔30 نومبر 2019 کو پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت کی تھی کہ بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں کی 45 دن کے اندر تحقیقات کی جائیں، عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔24 دسمبر 2019 کو پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ایف آئی اے کو پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کی تحقیقات کا حکم دینے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے منصوبے کی تحقیقات رکوانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

نیب کے دیگر مقدمات

عمران خان ہیلی کاپٹر کیس
نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے فروری 2018 میں عمران خان کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کے 2 سرکاری ہیلی کاپٹرز ایم آئی 17 اور ایکیوریل کو 74 گھنٹوں تک غیر سرکاری دوروں کے لیے نہایت ارزاں نرخوں پر استعمال کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے نیب خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔نیب کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر پر 22 گھنٹے اور ایکیوریل ہیلی کاپٹر پر 52 گھنٹے پرواز کی، جس کا انہوں نے اوسطاً فی گھنٹہ 28 ہزار روپے ادا کیا۔نیب رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگر عمران خان نجی کمپنیوں کے ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے تو انہیں ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کا فی گھنٹہ خرچ 10 سے 12 لاکھ روپے جبکہ ایکیوریل ہیلی کاپٹر کا فی گھنٹہ خرچ 5 سے 6 لاکھ روپے ادا کرنا پڑتا۔
رپورٹ میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے پرنسپل ایڈوائزر برائے ٹیکنیکل ٹریننگ اینڈ ایوی ایشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا کے ہیلی کاپٹرز کے استعمال پر تقریباً 2 لاکھ روپے فی گھنٹہ خرچ آتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو خیبر پختونخوا کی حکومت کو 1 کروڑ 11 لاکھ روپے ادا کرنے چاہیں تھے، تاہم سرکاری دستاویزات کے مطابق انہوں نے 21 لاکھ روپے ادا کیے، ادھر عمران خان نے اپنی پارٹی کے اجلاس میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹرز کا ذاتی استعمال نہیں کیا۔7 اگست 2018 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال سے متعلق کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہوئے تھے۔9 جنوری 2019 کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ملک کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف خیبر پختونخوا ہیلی کاپٹر کیس چلانا زیادتی ہے اور وہ اس طرح وزیر اعظم کی توہین کر رہا ہے۔11 جنوری 2019 کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہیلی کاپٹر کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’نیب وزیراعظم کے خلاف انتہائی فضول مقدمے کو ڈیڑھ برس سے گھسیٹ رہا جس کا تاحال کوئی نتجہ سامنے نہیں آسکا‘۔

بابر اعوان اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف ریفرنس
27 دسمبر 2007 کو اقتصادی رابطہ کونسل (ای سی سی) نے 30 کروڑ 29 لاکھ روپے مالیت کے نندی پور پاور پروجیکٹ کی منظوری دی تھی، بعد ازاں 28 جون 2008 کو اس منصوبے کے لیے نادرن پاور جنریشن کمپنی (این پی جی سی ایل) اور ڈونگ فانگ الیکٹرک کارپوریشن (ڈی ای سی) میں معاہدہ طے پایا تھا۔قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کیا گیا نندی پور ریفرنس، قانونی طور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شروع کیے جانے والے نندی پور توانائی منصوبے پر نظرثانی میں غیر معمولی تاخیر سے متعلق ہے جس سے اس کی لاگت میں کئی ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ریفرنس میں قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر قانون اور تحریک انصاف کے موجودہ رہنما بابر اعوان، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور وزارت قانون و انصاف اور پانی و بجلی کو اس کیس میں ملزم ٹھہرایا تھا۔یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو نے وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کو 2018 میں اس ریفرنس میں نامزد کیا تھا جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔بعدازاں بابر اعوان نے ریفرنس سے بریت کے لیے درخواست دائر کردی تھی جس پر 11 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جسے 25 فروری کو سنانے کا اعلان ہوا اور پھر اسے 8 مارچ تک ملتوی کردیا گیا تھا تاہم مارچ میں جب احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اس پر فیصلہ سنانے والے تھے تو انہوں نے اپنی بریت کی درخواست واپس لے لی تھی۔11 مارچ 2019 کو احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر بابر اعوان پر نندی پور کرپشن ریفرنس میں فردِ جرم عائد کردی تھی۔جس کے بعد 19 اپریل کو ایک مرتبہ پھر انہوں نے بریت کی درخواست دائر کی جس پر سماعت کے لیے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنانے کا 2 مرتبہ اعلان کیا گیا لیکن پھر موخر کردیا گیا۔واضح رہے کہ نیب کی جانب سے 5 ستمبر کو نندی پور پاور پروجیکٹ ریفرنس دائر کرنے کے بعد 18 ستمبر کو احتساب عدالت نے اس کی سماعت کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔ریفرنس میں نیب نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نندی پور پاور پروجیکٹ میں 2 سال ایک ماہ اور 15 دن کی تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 27 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ریفرنس میں شامل دیگر ملزمان میں سابق سیکریٹری قانون جسٹس (ر) ریاض کیانی اور مسعود چشتی، پانی اور بجلی کے سابق سیکریٹری شاہد رفیق اور وزارت قانون، وزارت پانی و توانائی کے کچھ عہدیدار بھی شامل ہیں۔25 جون 2019 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی خزانے کو 27 ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر دائر نندی پور ریفرنس سے حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے رہنما بابر اعوان اور جسٹس (ر) ریاض کیانی کو بری کردیا تھا جبکہ عدالت نے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، شمائلہ محمود اور ڈاکٹر ریاض محمود کی بریت کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔5 جولائی 2019 کو نیب نے نندی پور پاور ریفرنس میں تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر بابر اعوان اور سابق لا سیکریٹری جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کی بریت کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاریاں

متحدہ قومی موومنٹ کے سابق اور موجودہ عہدیداروں کے کیسز
بابر غوری کے خلاف ریفرنس
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سابق سینیٹر اور وفاقی وزیر بابر غوری، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی 2008 میں بننے والی حکومت کا حصہ تھے اور انہوں نے حکومت کی اتحادی جماعت کے سینیٹر کی حیثیت سے وفاقی وزیر کا قلم دان سنبھالا تھا۔بابر غوری کو وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ بنایا گیا تھا تاہم 2013 میں مرکز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی اور کراچی میں رینجرز نے آپریشن شروع کیا اور بعد ازاں بابر غوری ملک سے باہر چلے گئے تھے، جس کے بعد وہ وطن واپس نہیں لوٹے۔15 ستمبر 2018 کو نیب نے بابر غوری اور دیگر رہنماؤں کے خلاف پونے 3 ارب سے زائد کرپشن کے الزام پر تفتیش کے بعد احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا۔3 دسمبر 2018 کو نیب نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ بابر غوری سمیت 3 افراد کو مفرور قرار دینے کے لیے اشتہارات دیے تھے۔7 مئی 2019 کو وزارت پورٹ اینڈ شپنگ میں ملازمین کے خلاف تقرریوں میں بے ضابطگیوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر بابر غوری کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی تھی۔

رؤف صدیقی کے خلاف ریفرنس
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سابق وزیر رؤف صدیقی 2002 کے انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد جنوری 2003 میں صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے عہدے پر فائز ہوئے تھے جس کے بعد جولائی 2004 میں انہیں صوبائی وزیر داخلہ کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا۔بعدازاں 2006 میں انہیں صوبائی وزیر برائے ثقافت و سیاحت بنادیا گیا تھا جس پر وہ نومبر 2007 تک فائز رہے، 2008 کے انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد انہوں نے صوبائی وزیر صنعت و تجارت کا عہدہ سنبھالا۔اس دوران 2012 میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن رونما ہونے پر وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے، جنہیں بعد میں اس کیس میں نامزد کردیا گیا تھا اور 14فروری 2018 کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان پرفردِ جرم عائد کردی تھی۔علاوہ ازیں 14 مارچ 2019 کو نیب نے محکمہ اسمال انڈسٹریز سندھ میں غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر رؤف صدیقی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مصطفیٰ کمال کے خلاف ریفرنس
مصطفیٰ کمال نے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) سے اپنا سیاسی سفر شروع کیا اور پھر متحدہ قومی موومنٹ میں شامل ہونے کے ساتھ 2002 میں پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، وہ سال 2005 سے 2010 تک کراچی کے ناظم رہے اور کئی ترقیاتی منصوبے بنانے کا دعویٰ کیا۔بعد ازاں وہ 2011 میں متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے ہی سینیٹر منتخب ہوئے تاہم 2013 میں وہ ملک سے باہر چلے گئے اور پھر اسی سال انہوں نے سینیٹر شپ سے استعفیٰ دیا اور دبئی میں ملازمت اختیار کرلی۔اسی دوران 2016 میں اچانک مصطفیٰ کمال پاکستان واپس آئے اور ایک نئی جماعت ‘پاک سرزمین پارٹی’ بنانے کا اعلان کیا جبکہ ایم کیو ایم اور اس کے بانی الطاف حسین پر سنگین الزامات لگائے۔22 جون 2019 کو احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے چیئرمین اور سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال سمیت 11 ملزمان کے خلاف دائر ریفرنس کو سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔عدالت نے ریفرنس کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال، افتخار قائمخانی، زین ملک، فضل الرحمٰن، ممتاز حیدر سمیت تمام 11 ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت طلب کیا تھا۔11 جولائی کو احتساب عدالت نے انہیں اور دیگر 2 ملزمان کو تیسری مرتبہ نوٹس جاری کیا تھا۔احتساب عدالت کے جج نے سابق میئر کراچی کی سماعت سے غیر حاضری کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں 27 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جس پر مصطفیٰ کمال نے عبوری ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔26 جولائی 2019 کو سندھ ہائی کورٹ نے پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کرلی تھی۔قبل ازیں نیب کی جانب سے یہ ریفرنس مصطفیٰ کمال و دیگر کے خلاف زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ پر دائر کیا گیا تھا۔اس ریفرنس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اور اس وقت کے ای ڈی او سی ڈی جی کے افتخار قائمخانی، اس وقت کے ڈی سی او فضل الرحمٰں، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے اس وقت کے ڈی او ممتاز حیدر نذیر زرداری، محمد داؤد، محمد یعقوب، محمد عرفان، محمد رفیق اور زین ملک شامل ہیں۔ریفرنس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ مصطفیٰ کمال اور دیگر کے خلاف ساحل سمندر پر ساڑھے 5 ہزار مربع گز زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے، نیب کے مطابق یہ زمین 1980 میں ہاکرز اور دکانداروں کو لیز پر دی گئی تھی جبکہ 2005 میں پوری زمین کو ڈی جے بلڈرز نے لیز پر حاصل کرلیا تھا۔عدالت میں دائر ریفرنس کے مطابق سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے بلڈر کو کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر کرنے کی غیر قانونی اجازت دی تھی۔

دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف ریفرنس

اکرم خان درانی کے خلاف ریفرنس
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کو وفاقی حکومت ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی 2 ہاؤسنگ اسکیمز میں مبینہ بد عنوانی کے الزامات کا سامنا ہے، اس کے علاوہ ان پر منظورِ نظر افسران کی تعیناتی، مسجد کے لیے ’خلافِ ضابطہ‘ پلاٹس مختص کرنا اور پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کا کام شامل ہے۔نیب نے جے یو آئی (ف) کے 22 اکتوبر کو محکمہ پاکستان پبلک ورکس (پی ڈبلیو ڈی) میں غیر قانونی تعیناتیوں کے الزام میں اکرم درانی کے خلاف انکوائری شروع کی تھی اور دوسرے ہی روز کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اکرم خان درانی کی 4 نومبر تک عبوری ضمانت منظور کی تھی۔21 نومبر 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم خان درانی کی ضمانت کی درخواست نمٹادی تھی۔

نیب کے دیگر ریفرنسز

7 فروری 2019 کو قومی احتساب بیورو نے 3 حکومتی اداروں کے سابق سربراہان کے خلاف ریفرنسز فائل کرنے کی منظوری دے دی تھی، ان میں سے ایک کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے سابق چیئرمین وائس ایڈمرل (ر) احمد حیات اور دیگر کے خلاف غیر قانونی طریقے سے مبینہ طور پر ریاستی زمین الاٹ کرنے پر بنایا گیا، کیونکہ اس سے قومی خزانے کو 18 ارب 18 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔اس کے علاوہ دیگر ریفرنس خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر احسان علی اور دیگر کے خلاف فائل کیا جائے گا، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے گاڑیوں اور ایندھن کی خریداری کے لیے مختص رقم کا غلط استعمال کیا، جس سے قومی خزانے کو 2 کروڑ 34 لاکھ 80 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔ای بی ایم کی جانب سے تیسرا ریفرنس خیرپور میں مشرقی ڈویژن کے محکمہ آبپاشی کے ایگزیکٹو انجینئر ایاز احمد اور دیگر کے خلاف دائر کرنے کی منظوری دی گئی کیونکہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مختلف اسکین میں سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کیا اور اپنے من پسند افراد کو کنٹریکٹز دیے، جس سے خزانے کو 8 کروڑ 93 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔14 فروری 2019 کو نیب نے سابق وزیر چوہدری شجاعت حسین، موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، سابق چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) شاہد اشرف تارڑ اور سابق چیئرمین ایواکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ای ٹی پی بی) صدیق الفاروق سمیت بڑے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کی منظوری دی تھی۔
نیب ترجمان کے مطابق مختلف شخصیات کے خلاف 13 انکوائریز کی تصدیق کی گئی، جن میں سابق ایم این اے غلام ربانی کھر، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے خلاف 2، سابق سیکریٹری آف کمیونیکیشن اور چیئرمین این ایچ اے اور دیگر کے خلاف 2 انکوائریز، ای ٹی پی بی کے سابق چیئرمین صدیق الفاروق، سابق منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال (پی بی ایم) اور دیگر کے خلاف علیحدہ 2 انکوائریز، سابق چیئرمین ای ٹی پی بی ڈاکٹر محمد التمش اور دیگر کے خلاف 2 انکوائریز، کنٹونمنٹ بورڈ کراچی کے سی ای او، آفیسرز آف ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا اور دیگر کے خلاف بھی انکوائریز شامل ہیں۔

اگزیکٹو بورڈ نے مختلف شخصیات کے خلاف 7 انویسٹی گیشن کی بھی منظوری دی، جس میں سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور دیگرز کے خلاف 3 تحقیقات، ٹی ایم شوگر ملز کراچی کے مالک اور دیگر، کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ اور دیگر، سابق سیکریٹری آف اسپیشل ایجوکیشن نور محمد لغاری، سابق پرنسپل سیکریٹری اسپیشل ایجوکیشن محمد علی خاصخیلی، بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران اور دیگر شامل ہیں۔

ایگزیکٹو بورڈ نے سابق چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کامران لاشاری، سابق ڈائریکٹر آف اربن پلاننگ سی ڈی اے غلام سرور سندھو، سابق ڈائریکٹر لینڈ سروے ڈویژن سی ڈی اے منیر جیلانی، منیجنگ ڈائریکٹر ڈپلومیٹک شٹل اینڈ ٹرانسپورٹ سروس محمد حسنین گل، سابق ممبر پلاننگ سی ڈی اے بریگیڈیئر (ر) نصرت اللہ اور دیگر کے خلاف 3 بدعنوانی کے ریفرنسز کی منظوری بھی دی تھی۔ان پر اختیارات کا غلط استعمال کرنے اور غیر قانونی طور پر ڈپلومیٹک شٹل اینڈ ٹرانسپورٹ سروس کا ٹھیکہ دینے کا الزام ہے، جس سے قومی خزانے کو 40 کروڑ 83 لاکھ 20 ہزار روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔اس کے علاوہ سابق سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ خیرپختونخوا اورنگزیب اور سابق ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر آڈیل ہائڈرو ٹیک سسٹم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ اصغر خان کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کی بھی منظوری دی، ان پر الزم ہے کہ انہوں نے پانی کے منصوبے کے لیے مختص فنڈز کا غلط استعمال کیا، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 19 کروڑ 50 لاکھ 43 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

14 مارچ 2019 کو قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں سابق مشیر ہوا بازی مہتاب احمد کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی تھی۔ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق مشیر برائے ایوی ایشن مہتاب احمد خان کے علاوہ سابق سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن عرفان الہی، سابق چیئرمین پی آئی اے مشرف رسول، محمد علی ٹبہ اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس دائر کرنے کی منظوری بھی دی گئی تھی۔
ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے برعکس مشرف رسول کو چیئرمین پی آئی اے تعینات کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا،مشرف رسول کی تعیناتی بھی غیرقانونی قرار دی جاچکی ہے۔
قومی احتساب بیورو نے سابق سیکریٹری کمیونی کیشن اینڈ ورکس ڈپارٹمنٹ بلوچستان کے سابق سیکریٹری غلام محمد اور دیگر افسران اور ٹھیکہ داران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی تھی، اس کے علاوہ چیئرمین نیب نے سابق ڈائریکٹر جنرل لاڑکانہ ڈیولمپنٹ اتھارٹی اصغر شیخ اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری بھی دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں