بحیثیت طالب علم کی ذمہ داری اور پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار – خلیل احمد قریشی

یہ وطن جس میں ہم رہ رہے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت سے کم نہیں یہ ملک پاکستان اسلام اور کلمے کے نام پت بنا تھا اور ہمارے بڑوں نے اس ملک کو پانے کیلئے بہت سی قربانیاں دی ہیں اسمیں نوجوانوں کی قربانیاں بھی شامل ہیں جب آزادی کی تحریک شروع ہوئی اور تحریک چل پڑی اسی دور میں کچھ نوجوانوں ایک ماں کے پاس آتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ اماں اپکے بیٹے کو شہید کر دیا گیا ہے اور اور اپ کے بیٹے کی لاش نزدیک والے محلے میں پڑی ہے، اس ماں نے ان بچوں سے کہا کہ میرے بیٹے کو کس وجہ اور کیوں شہید کیا گیا ان نوجوانوں نے بتایا اماں آپکا بیٹا ہندوستان کے گلیوں کوچوں میں یہ نعرہ لگا رہا تھا کہ ”” ”بھٹ کے رہے گا ہندوستان بن کے رہے گا پاکستان” ” ” پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ اس ماں نے جواب دیا کہ اس نعرہ پر تو میرا ایک بیٹا شہید ہوا ہے اگر اس نعرے پر میرے دس اور بیٹے بھی قربان ہو جائے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ وہ وقت تھا جب ماؤں نے اپنے بیٹے قربان کئے اور اپنے عزتوں کی پروا تک نہیں لیکن پاکستان کو بنا کر دم لیا میرے کہنے کا مقصد اس ملک میں نوجوانوں کا خون بھی شامل ہیں..
اب آتے ہے پاکستان میں نوجوانوں کی کردار پر، اس ملک کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار بہت اہم ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے نوجوان اس مکمل بے خبر ہیں اس ملک کو جسمیں ہم رہ رہے ہیں دنیا اسے نوجوانستان کے نام سے جانتی ہے پاکستان میں 64 فیصد نوجوان ہے جو 18 سال سے لے کر 30 سال تک عمر کے ہے اور ایک سروے کے مطابق یہ Ratio 2050 تک اسی طرح چلے گی جو بعد میں کم ہونا شروع ہو گی یہ اتنی بڑی طاقت خطہ زمین پر کسی اور ملک کے پاس نہیں جو پاکستان کے پاس موجود ہے یہ طاقت نیوکلیئر پاور سے بڑی طاقت ہے پاکستان کے نوجوان میزائیل سسیٹم سے بڑی طاقت ہے اگر اسکو مواقع اور پلیٹ فام مہیا کیا جائے تو یہ اپنے ملک کو ایشیا ٹائیگر کیساتھ ساتھ سپر پاور بھی بنا سکتی ہے بشرط یہ کہ نوجوان آگے آ کر اس ملک کی بھاگ دوڑ اور ملک کیلئے کچھ کرنے کا عزم دل میں لائے..
اور ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ سیاسی پارٹیاں ان نوجوانوں کو ٹیشو کی طرح استعمال کرکے پھینک دیتی ہے ان سے جھوٹے وعدے کرکے پر انکی طرف دیکھتی تک نہیں حالانکہ حکومت وقت کو اس کے بارے میں serious ہو کر سوچنا چاہئے اپنے مستقبل کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں.
اس ملک میں اتنی capacity موجود ہیں کہ ارفع کریم اور حماد صافی جیسے بچوں اور نوجوانوں کو آگے لا کر ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں اگر حکومت چاہے تو اور اج کا دور ورلڈ کپ جیتنے اور atomic bombs بنانے اور ریسلنگ لڑنے اور انکو جیتنے کا نہیں بلکہ اج کے دور میں ترقی یافتہ ممالک ایک دوسرے سے تعلیمی میدان میں مقابلے کر رہی ہے اور اس ہی steps کی وجہ سے ممالک ترقی کرتی ہیں حکومت کیساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی اپنے بارے میں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بارے میں سوچنا چاہئے اور گورنمنٹ بھی نوجوانوں کو آگے لانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تبہی ہم ایک ترقی یافتہ ملک بن سکتے ہیں۔

Advertisements
Sponsored by Orbit School and College

اپنا تبصرہ بھیجیں