ڈاکٹروں کی لاپروائی سے پہلے – حیات اکبر

آج فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں کم عمر لڑکوں کو بائیک پر مختلف کرتب کرتے دکھایا گیاوہ بھی مین روڈ پر اور ساتھ ہی لکھا تھا کہ ڈاکٹروں کی لاپروائی سے پہلے کے کچھ مناظر۔ اس چیز نے مجھے سوچ پر مجبور کیا، سونے پر سہاگہ والی بات تب بنی جب صوابی ٹائمز کے ایڈیٹوریل پیج پر یہ چھوٹا سا کونہ خالی رہ گیا تو سوچا اسی پوسٹ کو کچھ الفاظ دے کر آپ لوگوں کے سامنے لا سکوں، روزانہ ہزاروں بچوں کو سکول، کالج اور دیگر معاشی کاموں کے لئے موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے دیکھتا ہو تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ نہ جانے کتنے لوگ اس ناسور کی وجہ سے یا تو اپنی زندگی گنوا بیٹھے ہیں یا پھر اپاہج بن کر مختاجی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آج کل کے والدین اتنے بے پرواہ کیسے بن چکے ہیں کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بچوں کے پیچے یا تو ان کی ماں یا پھر باب ہی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوتے ہیں اور تب سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا کروں؟ یہی بچے اکیلے میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے کون کون سے کرتب بیچ روڈ پر دکھا رہے ہوتے ہیں شائد ان کے یہی پیچے بیٹھنے والے ماں باپ ایک بار ان کے دیکھ سکیں۔ شاید دیکھ نہ سکے تو پھر بھی کسی اور کے ذریعے ان تک اپنے بچوں کے وہی کرتوت پتہ تو چلتے ہی ہونگے مگر پھر بھی چپ رہنا ان کی عادت بن چکی ہے۔ ایسے میں اگر ان بچوں کو خدا نہ خواستہ کوئی تکلیف پہنچ بھی جائے تو وہ ان کا اپنا کیا ہوتا ہے، مگر جو لوگ روڈ پر لائسنس لے کر گاڑی چلارہے ہوں اس میں ان کا کیا قصور ہوتا ہے؟ کیونکہ قانون تو ان بچوں کے آگے بے بس ہے۔ اس سلسلے میں ڈی ایس پی ٹریفک کو کئی بار بذات خود بھی شکایت کی، مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل آیا۔ کیونکہ ٹریفک پولیس کو ان بچوں کے مستقبل کی نہیں بلکہ کالے شیشوں کی پڑی ہوئی ہے۔ بھلے یہی بچے اپنے ہی ہاتھوں اپنے اور دوسروں کے زندگی سے کھیلے مگر کالے شیشے والے روڈ پر دکھائی نہ دیں۔ ساتھ ہی اسسٹنٹ کمشنر سے اس بارے میں ملاقات کی بہت کوشش کی مگر اسے بھی بس اس بات کی فکر کھائی جا رہی ہے کہ بازاروں اور دکانوں کی صفائی نہیں ہو رہی۔ ڈی ایس پی صاحب کو بھی ایک پریس کانفرنس میں شکایت کی لیکن ان کا کہنا کہ یہ والدین کا کام ہے اپنے بچوں کو سمجھانا۔ تو آپ ہی سمجھائیے پھر!

Advertisements
Sponsored by Islamia School and College

اپنا تبصرہ بھیجیں