جماعت اسلامی: ماضی، حال اورمستقبل (تیسری قسط) – میاں سلیم اکبر

93ء کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو ایک بار پھر فوجی اسٹبلشمنٹ کی ملی بھگت سے اقتدار میں آئی اور نواز شریف کو کھڈے لائین کیا گیا دوسری جانب مرکزی شوریٰ نے شکست کی ساری ذمہ داری قاضی صاحب اور اسکے نومولود لاڈلہ خود سر بیٹے پاسبان کو قرار دینے کے نتیجے میں اسلامک فرنٹ اور پاسبان کا خاتمہ کیا گیاجبکہ قاضی صاحب کو مرکزی شوریٰ کی دباو پرجماعت کی امارت سے مستعفی ہونا پڑا۔جماعت کے دستور کے مطابق امارت کے لیے دوبارہ انتخاب میں مستعفی قاضی صاحب کو ملک بھر کے ارکان نے پہلے سے زیادہ اکثریت کے ساتھ منٹخب کر وایا۔ اصولاََقاضی صاحب کے دوبارہ منتخب ہونے پر مرکزی شوریٰ کو یا کم از کم قاضی صاحب کے پالیسیوں پر معترض ارکان کو مستعفی ہونا چاہیے تھا لیکن کسی بھی رکن شوری نے استعفیٰ نہیں دیا۔اسے قاضی صاحب کی اعلیٰ ظرفی کہیے یا حالات کی مجبوری!لیکن یہ کریڈٹ ملک بھر کی تمام مذہب و سیاسی جماعتوں میں سے صرف جماعت اسلامی ہی کا طرہ امتیازرہاہے کہ یہاں نہ ڈکٹیٹر شپس(dictatorships) ہے اور نہ جماعت اسلامی خاندانی موروثی سیاسی جماعت ہے۔انکے سیاسی نظر یات طریقہ کار ملک کے اندر اور باہر کے ایشوز پر (کشمیر، افعانستان، فلسطین، عراق،بوسنیا، چیچنیا، اسرائیل) کے موقف پر لاکھ اختلاف کیا جا سکتاہے اور کیا جانا چاہیے۔لیکن جو جمہوریت اور کارکنان کی تربیت کا نظام اس جماعت کے اندر ہے اور کسی جماعت میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔جماعت اسلامی کے اندر سمع و اطاعت کا مربوط نظام کے ہوتے ہوئے بھی امیرجماعت کے پاس کھلی تنظیمی اختیارات نہیں ھوتے جہاں یہ جماعت کی ایک خوبی سمجھی جاتی ہے وہاں یہ دستور کی سخت گیری اور عملََا امیر جماعت کی آزادانہ سوچ اورعمل پر ایک جبری قدعن کے ساتھ امارت میں ایک بڑی کمزوری کو بھی جنم لی ہوئی ہے جس کی وجہ سے امیر جماعت ہو کر بھی نہ اپنے اختیار سے کسی بھی ایک قابل معاملہ فہم اور جہاندیدہ شخص کو شوریٰ کا رکن نامزد گی کا اختیار ہے اور نہ کسی کو اپنی مرضی سے نکال باہر کرنے کا۔کیونکہ شوریٰ کی تقرری براہ راست انتخابات سے ہو کر وجود میں آتی رہی ہے۔ اسی طرح امیرجماعت شوریٰ کی اکثریتی رائے کاپابند رہتا ہے۔ اگر چہ امیر کو ویتو کا اختیار بھی حاصل ہے۔ لیکن عموما روایت ہی ہے۔کہ شوریٰ کے کیے گیے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جانا امیر جماعت کی ذمہ داری قرار پاتی ہے۔ مرکزی شوریٰ (سنٹرل ایگزیکٹیو باڈی)اور امیر جماعت کا چار سال کے لیے انتخاب عمل میں لایا جاتاہے۔ مقررہ وقت پر دستور کے مطابق تمام خالی عہدوں پر انتخابات منعقد کروائے جاتے ہیں۔قاضی صاحب امیر تو منتخب ہوئے۔لیکن مدرسوں سے فارغ علماء اور پرانی ڈگر کے حامل چوٹی کے ارکان و بعض ذمہ داران قاضی صاحب کی راہ میں روڑے اٹکا نے سے باز نہیں رہے لیکن قاضی صاحب بھی اپنی دھن کے پکے خاموشی سے بیھٹنے والے کب تھے؟ پاسبان کو ختم کر دیا گیا تونوجوا نون کو کبھی ایک نام سے اور کبھی دوسرے نام سے اپنے قریب کرنا انکا اصلی مشن تھا۔ساری امیدیں اور توقعات نوجوانوں ہی سے وابستہ تھی کیونکہ پیچھے موڑ کر نہ دیکھنے، نفع نقصان کے سوچ سے بالا تر انقلاب اور تبدیلی لانے کا جنون نوجوانوں ہی کے سر پرہر دور میں سوار رہا ہے اور قاضی صاحب نوجوانوں کی اس جذبے کو بھانپ کر انکے ذریعے ملک سے فرسودہ نظام کے خاتمے کے لیے ان سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھا۔کیونکہ بزرگوں کے پاس تجربہ اورتاریخی معلومات توبکثرتت ملتے ہیں لیکن اس عمر میں مایوسی اور اپنے پرائے سے گلے شکوے زیادہ سننے کو ملتی رہتی ہے۔ پاسبان کے خاتمے کے بعد” شباب ملی” بنائی گئی لیکن اس تنظیم نے کئی سال سفر کرنے کے باوجود کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر پائی۔جسکی بڑی وجہ اس تنظیم کا ضلعی جماعت کے زیر اثر بنا کر نہ اپنے فیصلوں میں اسلامی جمعیت طلباء کی طرح آزاد تھی اور نہ الگ کوئی دستور اور مضبوط تنظیمی ڈھانچا رکھتا تھا اس کی تمام سرگرمیاں ضلعی جماعت کنٹرول کرتی رہی اس کی مثال اس شاہین پرند ے کی سی بنائی گئی تھی کہ دیکھنے میں تو شاہین نظر آرہا تھا لیکن اکابرین نے اس ڈر اور خوف سے کہ یہ شاہین کہیں اپنے خون خوار پنجوں میں ہمیں اٹھا کر اچھک نہ لے جائے۔ اس کے پر ناخن اور چونچ بری طرح کاٹ لی گئی کہ نہ بجے باجہ نہ رہے بانسری جس سے وہ بے چارہ کسی اور پر کیا جپھٹتے الٹا آڑنے اور چلنے پھرنے سے قاصر رہاپھر چند سال بعد شباب ملی کو ایک طرف کھڈے لائن کرکے(JI Youth) بنا کر نوجوانون کے حلق سے زبر دستی اتارا جا رہا ہے لیکن یہ بیل بھی منڈیر پر نہ چڑھ پایئگی کہ یہ بھی اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں۔ ایشوز کواٹھااٹھا کر کارکنان کو گرم رکھنے کا فن اگر کوئی سیکھنا چاہے تو قاضی حسین احمد مرحوم ہی کے طرز سیاست سے سیکھیں جپھٹنا پلٹنا جھپٹکے پلٹنا۔ لہو گرم رکھنے کاہے ایک بہانہ۔ مرحوم و مغفور کا فلسفہ رہا کہ کارکنان کو مسلسل مصرو ف رکھو کوئی ٹاسک نہ دینے کی صورت میں انکا گرم خون ٹھنڈا پڑ کر سستی روی اور مایوسی کے دلدل میں جا لگتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اپنے دور امارت میں بہت ہی زیادہ متحرک رہے۔ بلامبالغہ قاضی صاحب شاہین پرندے کا مصداق تھاہر وقت متحرک اور ہر چیز پر عقابی نظر۔ ایشوز پر احتجاجی جلسے اور جلوس نکالناہویا پرنٹ میڈیااورعام وخاص کو اپنی طرف متوجہ کرنا ملک کے اندر کسی کے ساتھ ظلم کا ارتکاب ہو یا ملک سے باہرفلسطین،برما اور دوسرے مظلوم مسلمان اور دیگر اقوام قاضی صاحب پر خطر حالات میں بھی ”جن ” بن کر جا پہنچتے۔اس نے جماعت اسلامی کو دفتر اور ڈرائنگ روم سے نکال کر عوام میں متعارف کروایا اور شاہد پہلی بار جماعت کے کسی لیڈر کو عام لوگوں نے اگر پہچانا تو وہ قاضی حسین احمد مرحوم ہی تھا لیکن اس نے یہ مقام اپنی بیباک سیاست اور لگی لپٹی بغیر سچی اور منہ پر بات کہنے مظلوم اور غربت کے مارے لوگوں کا مسیحا بن کر حاصل کیا تھا۔ لیکن خود جماعت کے اندر پرانے ذ ھنیت کے حامل افراد کو قاضی صاحب کی یہ مقبولیت ایک آنکھ نہ بھا تی 93ء کے انتخابات مین بے نظیر ایکبار پھر اقتدار میں آئی۔ ڈھائی سال نہ گزرے تھے کہ اسٹبلشمنٹ نے اپنی روایتی حربوں سے کام لے کر بے نظیر کو بدنام کر کے نواز شریف کے ساتھ پھر ساز باز کر کے بے نظیر کو راستے سے ہٹانے کے لیے میدان میں قا ضی صاحب کو اتاراگیاکیونکہ سٹریٹ پاور اور قربانی کے جذبے سے سر شار ٹرینڈ جیالے جماعت اسلامی ہی کے پاس تھے۔ ملک کی اصل حکمران اسٹبلشمنٹ نے ہمیشہ کی طرح حکمران جماعت پر حب الوطنی اور اسلام دشمنی اور کرپشن کے الزامات لگا کر انکے خلاف خود انکے سیاسی برادری کو استعمال کیے رکھا اس بار اسٹبلشمنٹ نے یہ کارخیراکیلاقاضی صاحب سے لیا۔ ایجنسیوں نے اس جماعت کی حب الوطنی اور اسلام دوستی سے فائدہ اٹھاکرجماعت اسلامی کو اس شکاری کتے کی طرح استعمال کیا کہ شکار پکڑے وہ اور کھا ئے مالک اور دوسرے۔بیڈ گورننس مالی کرپشن ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کشمیر پر سودا بازی ایجنسیوں کی حمایت اور اشارے سے قاضی صاحب نے96ء میں بے نظیر حکومت کے خلاف تحریک چلانے ان کو سکیورٹی رسک قرار دینے اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا۔پاکستانی سیاست میں دھرنا دینے کا یہ ٹرینڈ trend قاضی صاحب ہی کا دیا ہوا تخفہ ہے۔ جیسے بعد میں عمران خان نے جماعت اسلامی کے غیر فعالیت کے سبب اپنے نام سے رجسٹر کروایا اس وقت سے لے کر اب تک کوئی بھی متاثرہ گروہ دھرنا دے کر اپنے مسا ئل حکمران جماعت سے منواتارہاہے۔عمران خان نے بھی کرپشن، دونوں جماعتون کے خلاف تیسری قوت اور دھرنا دینے کی پالیسی قاضی صاحب سے مستعار لی ہوئی تھی۔ اس دھرنے کے نتیجے میں اس وقت کے صدر فاروق لغاری جو پی پی پی کا پرانا اور دیرینہ ساتھی تھا کے ہاتھوں 58 ٹو بی کے ذریعے ان الزامات کے تخت اکتوبر 96ء کو مرکزی و صوبائی اسمبلیوں کو برخاست کیا گیا۔ نگران حکومت بنائی گئی آئین پاکستان کے تحت دوبارہ مرکزی و صوبائی انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ قاضی صاحب نے احتساب کا نعرہ لگا کر بایئکاٹ کیا کہ پہلے جھاڑو پھیر کر بعد میں انتخابات منعقد کیے جائیں تاکہ صاف ستھری قیادت سامنے آجائے۔ لیکن حقیقی احتساب کون کرتا کہ تمام کے تمام جوڈیشری،جنرلز، سول و فوجی بیروکریسی، سیاستدان و بڑے بڑے سرمایہ دار تک کرپشن مین ملوث رہے ہیں۔ کرپشن کے نام پرحکمرا نوں کی اکھاڑ پچھاڑ تو محض ایک موثر اور آسان حربہ ہے کہ آسانی سے چلتا ہے۔جنوری 97ء کے انتخابات کے نتیجے میں جیسا کہ صاف نظرآرہا تھا مسلم لیگ نون کو اسٹبلشمنٹ کے بنائی گئی فارمولے سے زیادہ کامیابی ملی! دو تہائی اکثریت! نواز شریف کے وہم وگمان سے بھی زیادہ۔اتنی بڑی کامیابی نواز شریف سے ٓاسانی سے ہضم نہ ہو پائی اور وہ ذرا جلدی میں اس ملک کا بلا شرکتِ غیر امیر المو منین اور فوج کو سویلین حکومت کے یعنی اپنے ماتحت کرنا چاہ رہے تھے۔ قرض اُتارو ملک سنوارو کی مہم شروع ہوئی میگا پراجیکٹ شروع کیے گیے۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب مین امریکی حکومت کے دباؤ اور مالی پیشکش کے باوجود عوام کی پرزور مطالبے پر 5 کے جواب مین 6 ایٹمی دھماکے کئے گئے۔جس سے انڈیا کے ہوش بھی ٹھکانے آگیادونوں ممالک کے درمیان کشمیر سمیت تجارت پربیک ڈور ڈپلومیسی شروع ہوئی جس کے نتیجے میں انڈیا کے وزیر اعظم واجپائی بارڈر کے راستے لاہور آکر مینار پاکستان کے نیچے کشمیر سمیت تمام دیگر تنازعات اور آپس میں تجارت، کلچر، تعلیم جیسے معاہدات اور یاداشت پر دستخط ہوئے جیسے لاہور ڈیکلریشن کا نام دیاگیا فوجی اسٹبلشمنٹ اس اقدام کے خلاف تھا کہ اس طرح دونوں ممالک کے قریب آنے اور کشمیر ایشو کے حل ہو نے سے پاکستانی فوج کاکیابنے گا اسکی تو ساری عیاشیاں اور قوت قاہرہ زمین بوس ہو جایئگی۔جسکی فوج نے برملا شدید مخالفت کی۔ اسٹبلشمنٹ نے نواز شریف کو دباؤ میں لانے کے لیے پھر قاضی صاحب کو کشمیر کے جذباتی لگاؤ کے نام پر استعمال کیا اور واجپائی کاپاکستان آنے پر واہگہ سرحدپراحتجاج کے لیے ملک بھر سے کارکنان کو کال دی گئی۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)

Advertisements
Sponsored by Shayan Bakers

اپنا تبصرہ بھیجیں