حبیب اللہ ہم شرمندہ ہیں – عنایت اللہ گوہاٹی

حبیب اللہ میرا پہلی دوسری اور تیسری جماعت میں شاگرد تھا۔بلا کا ذہین اور تابعدار۔ غریب گھرانے سے اس کا تعلق تھا۔اس کا سفید ریش بوڑھا باپ گلی کوچوں میں پیدل چل کر ٹافیاں بیچ کر اور کباڑ خرید کر اپنا گزارہ کرتا تھا۔گھر اُن کا اپنا نہ تھا۔کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔کبھی کبھار حبیب اللہ کا والد ہم سے ملتا تو یہ انتھائی غریب و شریف شخص ہمیں بہت عزت دیتا تھا۔حبیب اللہ نے جو ہمارا تعارف ان کے ساتھ کیا تھا کہ بابا، یہ میراکلاس ٹیچر ہے اور یہ میرے اساتذہ ہیں۔حبیب اللہ دبلا پتلا،سیدھا سادھا اور خاموش طبع بچہ تھا۔کبھی کسی بچے نے شکایت تک نہ کی تھی کہ حبیب اللہ نے اسے تنگ کیا ہے یا اس سے کوئی جھگڑا کیا ہے۔ان ڈھیر ساری خوبیوں کی بنا ء پر میں نے اسے کلاس مانیٹر مقرر کیاتھا۔تیز ذہانت کے ساتھ ساتھ اس میں ایڈمنسٹریٹیو صلاحیتیں بھی بہت تھیں۔اپنے کلاس کے ساتھیوں پر وہ نظر رکھتا۔کونسا بچہ باہر کس ضرورت سے گیا ہے،کس کی اگلی باری ہے۔حبیب اللہ کو سب پتہ ہوتا کہ سب بچے حبیب اللہ ہی سے پوچھ لیتے۔مارننگ اسمبلی کے فوراََ بعد حبیب اللہ رجسٹر صاف کر کے میز پر میرے سامنے رکھتا۔ میرے کلاس میں آنے سے پہلے وہ کلاس پر سر سری نظر ڈال کر حاضری لیتا۔وہ مجھے بتاتے سر آج کتنے بچے نہیں آئے ہیں۔سر فلاں بیمار ہے،فلاں کے بھائی یا چچا کی شادی تھی اس لئے نہیں آئے ہیں۔سر فلاں غیر حاضر ہے۔کل جو بچہ نہیں آیا تھا،سر وہ آج آیا ہوا ہے اور سر فلاں نے ہیڈ ماسٹر صاحب سے چھٹی لی ہوئی ہے۔حبیب اللہ چند لمحوں میں مجھے بریف کرتے۔حبیب اللہ کا کمال یہ تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔اس لئے میرا اس پر اعتماد تھا۔اس نے کبھی میرے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی تھی۔
حبیب اللہ بے حد ذہین و فطین تھا۔میں نے ذہانت اور قابلیت کی بنیاد پر اسے کلا س مانیٹر مقرر کیا تھا۔ ایک دفعہ جب میں ریاضی کا کوئی سوال تختہ سیاہ پر حل کرتا یا کوئی اردو،پشتو اور انگریزی کا کوئی سبق پڑھاتا۔تو حبیب اللہ فوراََ کھڑا ہوجاتا مجھے کہتا سر، اب میں پڑھا سکتا ہوں،مجھے یہ سوال یہ سبق اب یاد ہے۔میں ایک دو دفعہ پڑھانے کے بعد حبیب اللہ کو کہتا بیٹا، اب پڑھو۔حبیب اللہ کھڑا ہوجاتا اور باآواز بلند کئی بار اپنے ہم جماعت ساتھیوں کو سبق پڑھاتا۔حبیب اللہ ایک مخلص بچہ تھا۔اس کی کوشش ہوتی کہ کلاس کے سب بچے اچھی طرح سبق سیکھیں۔ساتھ ساتھ وہ بچوں پر نگرانی بھی کرتے۔جو بچہ نہیں پڑھتا تھا اس کو خبردار کرتے۔جس کو سبق معلوم نہ ہوتا اس کی انگلی پکڑ کر اسے بتاتے۔جو بچے شریر ہوتے اور کچھ شرارت کرتے یا کلاس میں لڑائی جھگڑے کرتے ان کے نام نوٹ کرکے مجھے یا ہیڈ ماسٹر صاحب کو بتاتے تاکہ پڑھائی کا عمل متا ثر نہ ہو اور بچوں کا وقت ضائع ہونے سے بچ جائے۔حبیب اللہ کی بچپن ہی میں انہی بے پناہ صلاحیتوں کا مجھے پتہ لگ چکا تھا۔مجھے سو فیصد یقین تھا کہ حبیب اللہ پڑھ کر اور بڑا ہوکر انشاء اللہ ضرور ڈاکٹر بنے گا اور ملک و قوم کی خدمت کرے گا۔اپنے اساتذہ او ر والدین کا نام روشن کرے گا۔اس لئے میں اسے ڈاکٹر،ڈاکٹر کہہ کر مخاطب کرتا۔ڈاکٹر صاحب تم سبق پڑھو،ڈاکٹر تم یہ کرو،ڈاکٹر تم وہ کرو۔حبیب اللہ یہ سن کر مسکراتے۔اس کی یہ معصومانہ مسکراہٹ آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ تھوڑے عرصے بعد میری پروموش ہوئی اور میرا تبادلہ اسی سکول سے کافی دور ہوا۔میری ذمہ داریاں بھی بڑھیں۔سورج نکلنے سے پہلے میں گھر سے نکلتا اور شام ڈھلے میں لوٹ آتا۔میرا حبیب اللہ سے رابطہ کٹ گیا۔انہیں دنوں حبیب اللہ کے والد کا بھی انتقال ہوا۔اب کوئی ان کے گھر کا کفیل اللہ کے سوا کوئی نہ رہا تھا۔حبیب اللہ اب ہائی اسکول میں داخلہ لے چکا تھا۔وہ سکول سے تھکا ہارا گھر پہنچتا تو اپنے والد کا”کاروبار“ سنبھال لیتا۔ہاتھ میں چند ٹافیاں،چند بسکٹ لیکر گلی گلی،کوچے کوچے پھرتا،آواز یں لگاتا۔اس کے ہم عمر بچے آتے اس سے ٹافیاں بسکٹ خریدتے۔حبیب اللہ آگے چلتا اور یہ سلسلہ شام کی تاریکی تک چلتا۔حبیب اللہ انہیں چند پیسے ٹکوں سے اپنے گھر کے لئے چائے چینی اور کھانے پینے کی اشیاء خریدتا۔لیکن انہیں پیسوں میں گھر کا کرایہ ادا نہیں ہوسکتا تھا۔اس لئے جلد مالک مکان نے اسے مکان خالی کرانے کا کہا۔حبیب اللہ اور اس کی بوڑھی والدہ کے ساتھ مکان خالی کرنے کے سوا چارہ ہی کیا تھا۔یوں حبیب اللہ اور ان کی والدہ کہیں دور چلے گئے۔ایسی دور کہ ان کا کچھ اتہ پتہ نہ چلا۔ ڈیڑھ دو سال پہلے کہیں جاتے ہوئے راستے میں پچیس چھبیس سالہ ایک نوجوان کو دیکھا۔جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔چہرہ زرد پیلا تھا۔پرانے بوسیدہ کپڑے اس کے بدن سے پیوستہ تھے۔غربت اور افلاس اس کے چہرے پر نمایاں تھے۔یہ نوجوان تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے میری طرف مسکراکے آرہا تھا۔میں نے بغور دیکھا تو یہ حبیب اللہ ہی تھا۔ وہی میرا پرانا پیارا شاگرد۔میں نے حبیب اللہ کو گلے لگا یا۔مدتوں بعد اس سے ملاقات جو ہوئی تھی۔میں بے ساختہ حبیب اللہ سے پوچھنے لگا،بیٹا،یہ کیوں،یہ کیسے؟ حبیب اللہ نے کھڑے کھڑے اپنی پوری کہانی منٹوں میں بتادی۔بس سر کیا کرتاوالد صاحب وفات پاگئے۔ہمار کوئی کفیل سوائے اللہ کے نہ رہا تھا۔تعلیم حاصل کرتا یا اپنے اور اپنی والدہ کے لئے رزق تلاش کرتا۔معاف کیجئے۔ سر میں آپ کی امیدوں پر پورا اتر نہ سکا۔میں ڈاکٹر نہ بن سکا۔سر میں اب ایک کباڑ کے دکان پر کام کرتا ہوں۔کئی دفعہ کباڑ کے پرانے اخبار ات میں آپ کی تصاویر دیکھی ہیں۔میں نے ایک اخبار سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔میں نے اپنے ساتھیوں کو کہا تھا کہ یہ میرا بہترین ٹیچر ہے۔اخبار میں کالم بھی لکھتا ہے۔سر مدتوں بعد آپ کی تصویر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی تھی۔حبیب اللہ ابھی بول رہا تھا کہ اس کی درد بھری کہانی سننے کے بعد میرا دل بھر آیا، بے ساختہ میرے آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔میں نے اسے کچھ بتایا نہیں لیکن اپنے دل میں سوچا کہ بظاہر حبیب اللہ کی ناکامی فقط ایک حبیب اللہ کی نہیں بلکہ یہ مجھ سمیت پوری قوم،ریاست اور حکومتوں کی ناکامی ہے کہ ہم حبیب اللہ کے ٹیلنٹ،قابلیت اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہیں۔نہ جانے اس ملک کے کتنے حیب اللہ اور غریب اللہ ڈاکٹرز، انجینئرز،سائنس دان،وزیر و مشیر،گورنرز،اسسٹنٹ اور ڈپٹی کمشنرز بننے کی بجائے کباڑیئے کی دکان پر کام کرتے ہیں۔اور کتنے جنہیں کباڑیئے کی دکان پر کام کرنا چاہئے تھااپنی دولت،سفارش اور تعلق کے بل پر اس ملک کے اعلیٰ اور کلیدی پوسٹوں پر براجمان ہو کر اس ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ حبیب اللہ، ہم آپ سے آنکھیں نہیں ملاسکتے۔ ہمیں معاف کیجئے گا ورنہ آپ کی ایک آہ کتنوں کا ستیاناس کردے گا،کوئی اندازہ نہیں۔ حبیب اللہ ہم شرمندہ ہیں۔

Advertisements
Sponsored by Orbit School and College

اپنا تبصرہ بھیجیں