آزادی مارچ کے فائدے اور نقصانات – بخت شیر آسیر

جے یو آئی ف کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان آخر کا ر اپنی دیرینہ اتحادیوں مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی سے مایوس ہو کر اکیلے اڑان کا فیصلہ کر لیا اس سلسلے میں انہوں نے پہلے تو 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ اور ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان کیا اب انہوں نے وہ تاریخ تبدیل کر کے 27اکتوبر کو یوم سیاہ ہو گا۔ جبکہ 31اکتوبر کو آزادی مارچ اور ڈی چوک میں دھرنا دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لئے انہوں نے نہ صرف یہ کہ ملک بھر کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو موبالائز کر کے آزادی مارچ میں شرکت پر آمادہ کریں تو دوسری طرف چندہ مہم بھی شرو ع کیا ہوا ہے اور ہر ضلعی کا بینہ کو دس لاکھ سے لیکر پندرہ لاکھ روپے تک چندہ اکھٹا کرنے کی ٹارگٹ بھی دی ہے گزشتہ دنوں انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہا کہ ہماری یہ جنگ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی گرفتاریوں کی کوئی پروا نہیں ہم بی اور سی پلان کی طرف بھی جائینگے انہوں نے اس موقع پر حکمرانوں کو اقتدار چھوڑنے اور ملک میں نئے انتخابات کا بھی مطالبہ کیا مولانا فضل الرحمان شروع دن سے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف ہے اور وہ اس کو دھاندلی کا پیداوار حکومت کہتے ہیں پاکستان کی پوری تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو 1970 کے انتخابات کے علاوہ اس ملک میں کبھی صاف اور شفاف انتخابات ہوئے نہیں ہے 2002 کے انتخابات جس میں صوبائی سطح پر ایم ایم اے اور مرکزی سطح پر ق لیگ نے کامیابی حاصل کی تھی اسے بھی نا دیدہ قوتوں کا کارنامہ کہا جاتا تھا مولانا عطاء الرحمان جو کہ مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی اور جے یو آئی ف کے صوبائی امیر بھی ہے کہ بقول وہ دھاندلی تھی اور یہ دھاندلا ہے اس موقع پر مولانا محمد امیر بجلی گھر مرحوم کا وہ مثال یاد آتا ہے جو کہ وہ اکثر ایسے موقوں پر کہا کرتے تھے کہ جتے نور جمال ہے، اتے گیدڑ شیدڑ سب حلال ہے، جہاں تک مولانا فضل الرحمان کے دوبارہ انتخابات کے مطالبے کا تعلق ہے اگر دوبارہ انتخابات ہو بھی جائے اور اس کا رزلٹ بھی 2018 کی انتخابات کے صورت میں سامنے آجائے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اسے صاف شفاف انتخابات تسلیم کیا جائے گا ایک سال تک تو مولانا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی طرف دیکھتا رہا کہ یہ دونوں بڑی پارٹیاں کوئی قدم اُٹھائیں گی تو ایک بار پھر 1977والی پی این اے جیسی تحریک بن پائے گی مگر جب مولانا نے دیکھا کہ مسلم لیگ ن نے میاں نواز شریف، مریم نواز، کپٹن صدر، حمزہ شہباز، حاقان عباسی، سعد رفیق اور رانا ثنا ء اللہ کے اور پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری، فریال تال پور، خورشید شاہ، سراج دورانی، اور دوسروں کی گرفتاری پر چھب ساتھ اختیار کیا تو مولانا سمجھ گئے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نہ انڈے دیتی ہے اور نہ بچے جنم لیتے ہیں اور وہ قدم اُٹھایا جس کا ان کے اتحادیوں کا اس سے توقع نہیں تھی اب 22 اکتوبر کے حوالہ سے کچھ کہنا تو قبل از وقت ہے کیونکہ پتہ نہیں چلتا کہ آزادی مارچ ہوتا بھی ہے یا کہ نہیں اور اگر ہو تا ہے تو کامیابی بھی حاصل کرسکے گی یا کہ نہیں؟ مگر جہاں تک موجودہ وقت میں آزادی مارچ کے اثرات کا تعلق ہے تو میرے دانست میں اسلام آباد جانے اور ڈی چوک میں دھرنے سے پہلے پہلے مولانا نے کئی کامیابی حاصل کیں جن میں وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں جو تقریر کی تھی اور ملک کے اندر و باہر اس پر وزیر اعظم کو جو پزیر ائی حاصل ہو چکی تھی آزادی مارچ کے اعلان نے اس تقریر کے اثرات کو زرئل کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کاذ کے جھاگ کو بھی بٹھا دیا۔ نمبر 2 مدرسوں کو قومی ادارے میں شامل کرنے کیلئے حکومت جو اصلاحات لانا چاہتے تھے اب اس پر عمل در آمد حکومت کیلئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ نمبر 3 اس سے قبل مولانا کی نگاہیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جانب تھی اب نہ صرف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا بلکہ ساری دنیا کی نگاہوں کا مرکز مولا نا بن چکا ہے اور ہر شخص اس شش و پنج میں ہے کہ نہ جانے 27 اکتوبر کو کیا ہو گا دوسری طرف عمران خان ہے جو کہ اپنے آپ سے شیخ چلی بنایا ہوا ہے اور وہی شاخ کاٹ رہا ہے جس پر خود بیٹھا ہے اور اپنی حکومت کو گرانے اور کمزور کرنے میں مولانا کا پورا پورا مدد کر رہا ہے ہر شعبہ زندگی کے لوگوں مثال کے طور پر ڈاکٹروں، بزنس کمیونٹی، میڈیا، ایپکا، وغیرہ وغیرہ سے پھنگا لینا معمول بنایا ہوا ہے اور اپنی اکھڑ پن ضد، ہٹ دھرمی، تکبر، اپنے اپ کو عقل کل اور سب سے بڑا ایماندار سمجھنے سے باز نہیں آرہے۔جبکہ دوسری طرف کوئی ادارہ اس سے سنبھا لا نہیں جاتا ہے۔ ملک کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں چوری چکاری نو عمر بچوں کا اغوا اور ان سے جنسی تشدد، قتل، رہزنی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات روز کا معمول نہ ہو۔

Advertisements
Sponsored by Modern Bakers

اپنا تبصرہ بھیجیں