زلزلوں کے کثرت کے اسباب – سید اسد کاکا خیل

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”اس وقت تک قیامت نہ آئے گی جب تک دو بڑی جماعتیں آپس میں زبردست جنگ نہ کرلیں جن دونوں کا دعوٰی ایک ہی ہوگا اور جب تک تیس کے قریب ایسے دجال و کذاب پیدا نہ ہوجائیں جن میں سے ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا رسول بتائے گا اور فرمایا کہ اس وقت تک قیامت نہ آئے گی جب تک دنیا سے علم اٹھ جائے اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے”۔ (بخاری و مسلم)
انسان جب اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کو عادت بنا لے اور گناہوں کی برائی اور نفرت دلوں سے نکل جائے بلکہ دل گناہوں سے مانوس ہو جائیں تو اللہ تعالٰی کی طرف سے بطور تنبیہ مختلف مصیبتیں اور آفتوں کے ذریعے خبردار کیا جاتا ہے۔ آج کل دنیا میں کہیں مشکلات ہیں، کہیں سیلاب ہیں، کہیں زلزلے ہیں لیکن لوگ اپنی دنیا میں مست ہیں۔ رنگ رلیوں میں مگن ہیں۔ ذرا ہوش نہیں کہ یہ مصیبتیں کیوں نازل ہو رہی ہیں اور ان کے اسباب کیا ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے لیے ان عذاب اور ہلاکتوں کی راہ کا انتخاب کیا ہے ان کا عمل یہی ظاہر کرتا ہے کہ ان مصائب اور مشکلات کا ظہور کسی طرح عبرت اور نصیحت کے لیے نہیں بلکہ اس کا تعلق تو طبعیات سے ہے۔ زلزلے، سیلاب اور بے انتہا بارش یا بے انتہا برف باری ان سب کے طبعی اسباب بیان کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ زلزلے کی وجہ زمین کے سطحی حصہ سے چٹانوں کا کھسکنا وغیرہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن وہ چٹانیں کس کے حکم سے حرکت میں آتی ہیں اور کس کے ارادے سے زلزلہ آتا ہے اور تباہی پھیلتی ہے اس کی طرف ذرا بھی خیال نہیں جاتا۔
بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے فیصلے میں علیم وحکیم ہے، اوراسی طرح وہ شریعت اوراحکام میں بھی علیم وحکیم ہے، وہ اللہ سبحانہ وتعالی جوچاہے اپنی نشانیوں کوپیدافرماتااوراسے اپنے بندوں کے تخویف اورڈراور نصیحت وعبرت کا باعث بناتا ہے اورانہیں ان پرجواحکامات واجب کیے ہیں ان کی یاددہانی کرانے کا باعث بناتا ہے، اوراسی طرح اس میں انہیں شرک سے بچنے کی تحذیر اور اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے حکم کی مخالفت نہ کریں اورجس سے روکا گیا ہے اس کے مرتکب نہ ٹھریں جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا جس کا ترجمہ یہ ہے:
ہم تولوگوں کوڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں } الاسراء (59)۔
اورادوسرے مقام پرکچھ اس طرح فرمایا:
عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی اورخود ان کی اپنی ذات میں بھی دکھائیں گے یہاں تک کہ ان ظاہر ہو جا? گا کہ حق یہی ہے، کیا آپ کے رب کا ہرچیز پرواقف اوراگاہ ہونا کافی نہیں } فصلت (53)۔
زلزلہ یا کوء اوراللہ تعالی کی نشانی مثلا سورج وچاند گرہن، اورسخت ترین آندھی اوربگولہ وغیرہ ظاہرہوتو اللہ تعالی کی طرف رجوع اورتوبہ میں جلدی کرنی چاہیے اوراس کی طرف گریہ زاری اوراس سے عافیت کا سوال اورکثرت سے ذکرواذکار اوراستغفار کی جائے۔
اے اللہ تو ہمارے قلوب کی اصلاح فرما دے اور اپنے فضل و کرم سے معاف فرما دے۔ تیری رحمت بڑی وسیع ہے اور تو بڑا مہربان اور کریم ہے۔ امت کے حال پر رحم فرما۔ آمین۔

Advertisements
Sponsored by Rehman Medical Center

اپنا تبصرہ بھیجیں