آزادی مارچ!حکومت اپوزیشن تدبر کا مظاہرہ کریں – عنایت اللہ گوہاٹی

27 اکتوبر سے مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کی حکومت کے خلاف 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جسے آزادی مارچ کا نام دیا گیا ہے۔جمیعت علماء اسلام ف کے لیڈران کے دعوؤں کے مطابق اس مارچ میں مدارس کے طلباء سمیت پندرہ لاکھ لوگ شریک ہونگے جو ان کے بقول ملک کے کونے کونے سے اسلام آباد میں داخل ہونگے۔ابھی ان کی طر ف سے یہ طے نہیں ہوا ہے کہ آیا یہ دہرنا بھی ہوگا یا صرف احتجاجی مارچ کے بعد لوگ واپس اپنے گھروں کو روانہ ہونگے۔جے یو آئی ف نے ابھی تک تمام پتے شو نہیں کئے ہیں۔تاہم کئی دیگر جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن،پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی،قومی وطن پارٹی،پختون خواملی عوامی پارٹی نے اس مارچ میں کھل کر شمولیت کا اعلان کیا ہے۔اسفندیار ولی خان تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری کے بعد وہ خود آزادی مارچ کی قیادت کرینگے۔محمود خان اچکزئی کہتا ہے کہ وہ کنٹینر پر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ادھر آزادی مارچ کے خلاف درخواستوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسترد کیا ہے۔عدالت کا کہنا ہے پر امن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے،اس پر کسی صورت قدغن لگائی نہیں جاسکتی۔
جہاں تک پاکستان میں احتجاجی تحریکوں کی تاریخ کا تعلق ہے تو پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ احتجاجی تحریکوں سے بھری پڑی ہے۔زیادہ کا مجھے پتہ نہیں لیکن کہتے ہیں کی جب ایوب خان کے دور میں چینی بیس پیسے فی کلو مہنگی ہوئی تو طلباء سمیت پوری قوم چینی چور چینی چور کے نعرے لگا کر سڑکوں پر نکل آئی اور ایوب خان کرسی اقتدار یحیٰ خان کے حوالے کر نے پر مجبور ہوگئے جس نے ملک کے دو ٹکٹرے کردیئے۔بھٹو نے 1977 میں انتخابات کئے تو ان انتخابات پر بھی اپوزیشن کی جانب سے بد ترین دھاندلی کے الزامات لگے۔سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا مفتی محمودؒ (مولانا فضل الرحمن کے والد محترم) کی قیادت میں احتجاجی تحریک نظام مصطفی کے نام سے شروع ہوئی جو کہ آگے چل کر جنرل ضاء الحق کے طویل مارشل لاء پر ختم ہوئی۔جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے خلاف بھی ایم آرڈی (موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی) کے جھنڈے تلے احتجاجی تحریک چلائی گئی۔لیکن چونکہ فوجی ڈکٹیٹروں کے ساتھ ڈنڈا ہوتا ہے اس لئے ان کے خلاف ایسی تحریکوں کی کامیابی بمشکل ہوتی ہیں۔اس لیے سیاست دانوں کو ضیاء کی جہاز کی تباہی تک کا طویل انتظار کرنا پڑا۔اسّی کی دہائی کے آواخر اور نوے کی پوری دہائی سیاست دانوں کی احتجاجی تحریکوں اور ایک دوسرے کو کرسی سے نیچے گرانے کی کوششوں سے بھر ی پڑی ہے۔بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف ایک دوسرے کے خلاف میدان عمل میں تھے۔دونوں کی حکومتیں دو دو بار بغیر آدھا عرصہ بھی پورا کئے غلام اسحق خان کی اٹھاون ٹو بی کا شکا ر ہوئیں۔یہ وہ دور تھا جب ہم پہلے سکول،پھر کالج اور یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ ان تمام عرصے میں لانگ مارچوں،ٹرین مارچوں اور دھرنوں کے نتیجے میں ہمارے سکولز،کالجز اور یونیورسٹیاں بند ہوجاتیں۔ہم ہاسٹل میں ہوتے تو ہمیں ہاسٹل انتظامیہ کی جانب سے فالفور ہاسٹل چھوڑنے کے لئے کہا جاتا تاکہ طالب منتشرہوکر درد سر نہ بنے اور اپنے اپنے گھروں کو جاکر کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہ بنے۔اس عرصے میں بے نظیر اور نواز شریف کے علاوہ قاضی حسین احمد اور نواب زادہ نصر اللہ خان کا طوطی بولتا رہا۔یہ دونوں جب کسی کے خلاف اٹھتے تب تک آرام سے نہ بیٹھے جب تک حکمران کو گھر نہ بھیج دیتے۔بندہ کو خود بھی قاضی صاحب کے ایک دھر نے میں شمولیت کا ”شرف“ حاصل ہوا۔گرج دار تقریر کے بعد دھرنے کے لئے بٹھانے کو کہا جاتا۔لیکن اس وقت کے دھرنے آج کے برعکس ایک آدھ گھنٹے کے لئے ہوتے۔صرف احتجاج ریکارڈ کرانا مقصود ہوتا۔1996 میں رات کی تاریکی میں جب بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو میں اس وقت پشاور یونیورسٹی کے ہاسٹل 9 میں مقیم تھا۔حکومت توڑنے کی خوشی میں پورا پشاور ہوائی فائرنگ سے لرز اٹھا تھا۔ہم سٹو ڈنٹس کو ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے پشاور پر حملہ کیا ہو۔ہم ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ یار کیا ماجرا ہے لیکن کسی کو علم نہ تھا۔آخر صبح ناشتے کی میز پر ایک طالب ساتھی نے بی بی سی کے حوالے سے بتایا کہ بے نظیر کی حکومت توڑدی گئی ہے۔ہم اخبارات دیکھنے گئے تو یہ خبر اخبارات میں نہیں تھی۔ہم ایک ایسی بد قسمت قوم سے تعلق رکھتے ہیں کہ جنہیں اپنے ملک کی خبر جاننے کے لئے بی بی سی،سی این این اور مغربی میڈیا کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔1999میں میاں نواز شریف کی حکومت کو ایک فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے چلتا کیا۔نائن الیون اور امریکی اتحاد کا حصہ بننے کے بعد اس ملک میں خون کی جو ہولی کھیلی گئی وہ سب کے سامنے ہے۔80 ہزار پاکستانی اس امریکی جنگ کا ایندھن بنے۔مشرف کے مارشل لاء سے کچھ سیاست دان سبق سیکھ کر سنبھل گئے کہ مخاصمت،نفرت،ایک دوسرے کو پاؤں سے کھینچنے اور تنقید برائے تنقید کی سیاست کچھ درست عمل نہیں۔لیکن سیاست دان ایک دوسرے کو معاف کرنے والے کب ہوتے ہیں۔ججوں کی بحالی کے معاملے پر میاں نواز شریف کی ”تاریخی“ لانگ مارچ کو کون بھول سکتا ہے۔یہ بھی اس سلسلے کی کڑی ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے تھے۔بعد میں میاں نواز شریف برسر اقتدار آئے اور اس نے ڈکٹیٹر مشر ف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ دائر کیا۔جس کے کچھ عرصے بعد عمران خان اور طاہر القادری نواز شریف کے خلاف میدان میں کودپڑے۔لانگ مارچوں اور دھرنوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔تاآنکہ پانامہ کیس میں اقامے کی بنیاد پر میاں نواز شریف کو تا حیات نااہل کیا گیا۔25جولائی 2018 کو انتخابات ہوئے تو ان انتخابات کو بھی انجینئرڈ کہا گیااور عمران خان کی حکومت کو کٹھ پتلی حکومت گردانا گیا۔جو الزامات عمران خان نے میاں نواز شریف پر لگائے تھے تقریباََ ایسے ہی الزامات کا آج محض ڈیڑھ سال بعد عمران خان کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان بضد ہیں کہ وہ ہر صورت اسلام آباد جائیں گے جبکہ حکومت بضد لگتی ہے کہ وہ ہر صورت انھیں اسلام آباد آنے سے روکے گی۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہئے کہ وہ حکمت اور تدّبر سے کام لے۔بات چیت کے ذریعے سیاسی مسائل کا حل نکالیں۔محض آرائی اور ٹکراؤ سے نقصان ملک اور اس کے غریب عوام کا ہوگا، کسی اور کا نہیں۔

Advertisements
Sponsored by Shayan Bakers

اپنا تبصرہ بھیجیں