میں اردو ہوں – سیدہ سارہ گیلانی

میرا نام اردو ہے۔ میرا نقطہ آغاز 1391ء میں مسلمانوں کا داخلہ دہلی ہے۔ میں 628 برس کی ہوں۔ میں پاکستان کی قومی زبان ہوں ڈاکٹر خلیل طوق میرے بارے میں لکھتے ہیں کہ اردو پاکستانیوں کی قومی شناخت کی پہچان ہے۔ میرخسرو میرے پہلے مستند شاعر ہیں۔ میری تاریخ برصیغیر میں مسلمانوں کی آمد کی تاریخ ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے تین ادوار ہیں۔محمد بن قاسم،محمود غزنوی، علاؤالدین خلجی کے عہد میں مسلمانوں نے دکن پر حملہ کیا اور اسےفتح کرلیا۔ محمد تغلق نے 1335ء میں دہلی کے بجائے دکن کے شہر دیوگری کو اپنا دارلحکومت بنا لیا اور اسکا نام دولت آباد رکھا اور اس نے دہلی کی تمام آبادی کو نئی سلطنت میں نکل مکانی کا حکم دیابرصیغیر میں پہنچنے والے مسلمانوں کی زبانیں عربی، فارسی، اور ترکی تھیں مسلمان نئی اور ثقافت لے کر آئے برصغیر کی مقامی زبانیں ممود کے باعث قوت نمو سے محروم ہو چکہ تھیں مسلمانوں کی آمدکے اثرات یہاں ہر زبان میں محسوس کئے گئے۔ برصغیر پہنچنے والے مسلمانوں کہ مختلف زبانیں عربی فارسی ترکی تھیں۔ اور ان زبانوں سے مل کر میری پیدائش ہوئی۔ میں نے ان تینوں زبانوں سے استفادہ حاصل کیا اور ایک ترقی پزیر زبان بن گئی۔ میں ہر پہلو سے مسلم ثقافت سے مستفید تھی۔ میرا ذخیرہ الفاظ، طرز احساس،نظام خیال اور انداز بیان ہر لحاظ سے مسلم ثقافت کا آئینہ دار تھی۔ مسلمانوں نے مجھے اس حد تک ترقی دی کہ میں برصغیر کے ہر علاقے میں بولی اور سمجھی جانے لگی میں نے فارسی زبان سے بہت کچھ سیکھا یہاں تک کہ چلنے کے قابل ہوئیں میں نے ارتقاء کے کئی مراحل دیکھے اور مختلف مراحل پر مختلف ناموں سے موسوم کی گئی۔ بعض نام ہندوستان کی نسبت سے دئے گئے۔ جیسے کہ ہندوی، ہندی اور ہندوستانی۔بعض نام علاقائی نسبت سے رکھے گئے مثلاً دکنی، گجراتی، اور اردو معلّٰی وغیرہ مجھ میں پائے جانے والے بے شمار الفاظ عربی اور فارسی یا ان دنوں سے مل کر آئے ہیں میں ایک ایسی زبان ہوں جس نے قدرتی حالات میں نشونما پائی اور کسی ایک سلطنت یا سلطان نے میری سرپرستی نہیں کی بلکہ میں عوامی سطح پر ہندومسلم میل جول سے ابھری۔ صوفیاء کرام نے میرے زریعے وحدانیت اور محبت کا پیغام لوگوں کے دلوں تک پہنچایا شاعروں اور ادیبوں نے اپنی تخلیقات وتخیلات کے لئے مجھے زریعہ بنایا اور میرے گھیسو سنوارے حتٰی کہ میں ایک تنا ور سایہ در شجر بن گئی اور ہر تھکا ماندہ ضرورت مند میرے سائے میں پناہ لینے لگا۔ بیسویں صدی میں بیشتر شعرا اور نثر نگار میری ترقی اور وسعت کے لئے کوشاں رہے اور میری ترقی کے لئے مختلف تحریکیں بھی چلتی رہیں جنھوں نے مجھے ایک ترقی یافتہ رابطہ عامہ کی زبان بنا دیا گیا یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ میں ہندوستان کی پیدائش ہوں لیکن میری کہانی صرف یہ ہی نہیں ہے بلکہ میرا آج اور میرا مسقبل میری کہانی کا اہم جز ہے میں نے ماضی میں جتنی ترقی، عروج اور پیار پایا ہے، آج اتنی ہی تنہا ہو گئی ہوں میرے اپنوں نے ہی میرا ساتھ چھوڑ دیا میری نئی نسل مجھ سے آشنا نہیں لیکن میں ناامید نہیں اور اولڈ ایج ہوم میں ایک ایسے بزرگ ماں باپ کی طرح ہوں جو اپنے پچوں کی منتظرہوں جو مجھے ایک بار پھر گلے لگا کے اپنے ساتھ گھر لے جائیں۔

Advertisements
Sponsored by Rehman Medical Center

اپنا تبصرہ بھیجیں